انوارالعلوم (جلد 5) — Page 378
انوار العلوم جلد ۵ ۳۷ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب فرتے ہیں جس طرح وید کی طرف منسوب ہونے والے بیسیوں فرقے ہیں پس اگر کوئی شخص ایک قوم کا نمائندہ بھی ہو تب بھی اس شخص کا قول زیادہ سے زیادہ اس کی قوم پر محبت ہوگا نہ کہ اس مذہب کے تمام پیروان پر خواہ وہ اس سے اختلاف ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔چنانچہ خود پروفیسر صاحب اپنے مضمون میں اس امر پر بڑا زور دیتے ہیں کہ کوئی آریہ سماج کا نمائندہ آریہ سماج کے اصول سے منحرف نہیں ہے اور ہندو مذہب میں اختلاف ویدک دھرم کے خلاف دلیل نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آریہ سماج کے سوا دوسرے ہندوؤں کے اقوال کو ویدک دھرم کے خلاف حجت نہیں سمجھتے حالا نکہ وہ لوگ بھی دید کو مانتے ہیں ہیں اگر وید کے ماننے والے مختلف فرقوں میں سے بعض لوگوں کا یہ تسلیم کرنا کہ وید سے بڑھ کر اور علوم بھی ہیں جن کو انسان حاصل کر سکتا ہے ویدک دھرم کے خلاف اس لئے دلیل نہیں کہ ان کا کہنے والا پروفیسر رام دیو صاحب کا ہم خیال نہیں۔تو سوال یہ ہے کہ پھر کس سبب سے ایک ایسے شخص کا خیال جو زیادہ سے زیادہ اسلام کے کسی ایک فرقہ کا لیڈر کہلا سکتا ہے اسلام کے خلاف حجت قرار دیا جائے۔اگر اس کا قول حجت ہوگا تو پھر ویدوں کے ماننے والے فرقوں میں سے کسی ایک سر بر آوردہ شخص کا قول بھی ویدک دھرم اور ویدک دھرم کے تمام ماننے والوں کے خلاف حجت ہوگا۔اگر پروفیسر رام دیو صاحب کے نزدیک مسٹر تلک ، پنڈت در گارتا جوشی اور راؤ بہادر دیو راؤ نایک صاحبان جیسے ویدک دھرم کے پیروؤں کے اقوال جو ویدک دھرم کے بعض اصول کی کمزوری پر دلالت کرتے ہیں صرف اس وجہ سے قابل سند نہیں ہیں کہ یہ لوگ آریہ سماجی نہیں تھے تو میں پروفیسر صاحب سے سوال کرتا ہوں کہ کیوں سید امیر علی صاحب اور مسٹر خدا بخش صاحب کے ایسے اقوال جو اسلام کے خلاف ہوں اسلام کے خلاف استعمال کئے جا سکتے ہیں جبکہ اسلام میں بھی ویدک دھرم کے مانے والوں کی طرح کئی فرقے ہیں۔کیا ہم بھی پروفیسر صاحب کی طرح نہیں کہہ سکتے کہ اسلام کا کوئی شخص اسلامی اصول سے اختلاف نہیں رکھتا کیونکہ احمدیوں میں سے کوئی شخص اسلامی اُصول سے اختلاف ظاہر نہیں کرتا۔پروفیسر صاحب کے مضمون کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آریہ سماج اور ویدک دھرم میں امتیاز نہیں کر سکے اور اسی طرح اسلامی فرق اور اسلام میں امتیاز نہیں کر سکے۔عرض اگر پروفیسر صاحب کی بیان کردہ دل کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے توبھی وہ اسلام کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی کیونکہ نہ تو وہ لوگ جن کے حوالہ جات پروفیسر صاحب نے نقل کئے ہیں اسلام کے مذہبی نمائندہ ہیں اور نہ ان کو مسلمانوں نے کبھی مذہبی علماء میں شامل کیا ہے نہ ان لوگوں نے