انوارالعلوم (جلد 5) — Page 376
انوار العلوم جلد ۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب نہیں قرار پا سکتا کہ ان کا مضمون درست ہے یا یہ کہ و شخص ان لوگوں کا نمائندہ ہے۔پروفیسر صاحب کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ مسلمان ہمیشہ سے ان عقائد کے مخالف ہیں اور اس قسم کی کتب کے چھپنے کے بعد بھی مخالف رہے ہیں پس جب وہ مخالف خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں تو پھر کسی اور تردید کی ان کو کیا ضرورت تھی۔ہر ایک عقلمند انسان خیال کر سکتا تھا کہ جب آپس میں اسقدر اختلاف رائے ہے تو ایک دوسرے کا نمائندہ کیونکر ہو سکتا ہے خصوصاً جبکہ خود مصنف کتاب نے اپنے نمائندہ ہونے کا دعوئی نہیں کیا تو پھر باوجود مسلمانوں میں مخالف خیال کی موجودگی کے اس کی نمائندگی کا انکار کرنا ایک حماقت نہ ہوتی تو اور کیا ہوتا۔اگر کوئی شخص ان کی نمائندگی کا انکار کرتا تو کیا سید امیر علی صاحب اس امر پر ہنستے یا نہ ہنستے اور کیا جواب میں یہ نہ کہتے کہ میں نے کب تمہارا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔مسلمانوں کا نمائندہ ہونے سے سید امیر علی صاحب کا انکار مجھے تعجب ہے کہ پروفیسر ها سید امیر علی صاحب کو مسلمانوں کا نمائندہ قرار دے رہے ہیں اور سید امیر علی صاحب اپنی کتاب میں اس عہدہ سے انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ متعدد جگہ لکھتے ہیں کہ اس وقت مسلمان اسلام کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور صیحیح اسلام ان میں نہیں پایا جاتا اور یہ کتاب جیسا کہ وہ خود اس کے دیا چہ میں لکھتے ہیں انھوں نے مسلمانوں کو بزعم خود حقیقی اسلام سکھانے کے لئے لکھی ہے نہ کہ ان کی طرف سے نمائندہ کی حیثیت سے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں :- یہ کتاب جس کو پہلی کتاب کا دوسرا ایڈیشن کنا غلط ہوگا خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے لکھی گئی ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ یہ کتاب انھوں نے اس امید سے لکھی ہے کہ :- ”ہندوستان کے مسلمان اس بڑی لیور پین طاقت کے زیر نگرانی دوبارہ عقلی اور اخلاقی زندگی حاصل کریں۔یہ عجیب قسم کا وکیل ہے جو اپنی تقریر کا مخاطب بیج کی بجائے مؤکل کو بناتا ہے۔سید صاب کے یہ فقرات بتاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خود تراشیدہ حج خیال کرتے ہیں نہ کہ مسلمانوں کا وکیل۔سید صاحب کی نمائندگی کا انکار کیا گیا یہ بات بھی درست نہیں کر سید صاحب کی نمائندگی سے انکار نہیں کیا گیا کیونکہ گو ان کا۔۔۔۔نام لیکر ان کو مخاطب نہ کیا گیا ہو مگر ان کے جن مضامین کی طرف پروفیسر صاحب نے اشارہ کیا ہے ان