انوارالعلوم (جلد 5) — Page 358
انوار العلوم جلد ۵ ۳۵۸ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب آریہ صاحبان کے عقائد متزلزل ہو رہے ہیں یہ شالیں تو خاص آدمیوں کی ہیں لیکن خود آریہ سماج کے لیڈروں اور ان کے اخباروں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آریہ سماج کے ممبروں کے عقائد عام طور پر متزلزل ہو رہے ہیں اور عوام کے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے لوگوں کے چنانچہ آریہ اخبار کانپور گزٹ لکھتا ہے :- آریہ سماج میں ایک شخص اگر جنم سے وران بیو ستھا مانتا ہے تو دوسرا نیوگ سے صاف منکر ہے۔تمیرا اگر ویدوں میں جادو ٹونا ظاہر کرتا ہے تو چوتھا سوامی دیانند جی کے دید بھاشیہ کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے۔اس پر طرہ یہ ہے کہ وہ اصحاب آریہ سماج کے عہدہ داروں میں شامل کئے جاتے ہیں : شاید کانپور گزٹ کی رائے پروفیسر صاحب کے نزدیک اس قدر با وقعت نہ ہو اس لئے ان کے سامنے ہم گور و کل کانگڑی کے سابق گورنر لالہ منشی رام صاحب جن کے ماتحت پر و فیسر صاحب بھی کام کرتے رہے ہیں کی رائے بھی پیش کر دیتے ہیں۔لالہ منشی رام صاحب لکھتے ہیں :- "ہم بڑے بڑے تعلیم پر فخر کر نیوالوں سے واقف ہیں جو یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے کہ ویدوں پر بیوقوف بشواش کرتے ہیں۔ایشور ودوانوں (عالموں کے لئے کوئی چیز نہیں ہے ایشور کا ماننا سرو ساد باران ( عوام الناس کے لئے اچھا ہے لیکن ہم آریہ سماج کو کام کر نیوالی سوسائٹی سمجھ کر سبحانند (ممبر) ہوئے ہیں۔تار سے تعلیم یافتہ ممبر کا کرتے ہیں کہ سپنسر اور بریڈ لا کی زبان جاننے والے خدا نہیں مان سکتے " اب پروفیسر صاحب بتائیں کہ جس جماعت کے تعلیم یافتہ اس کے لیڈر اپنے قول کے بموجب عمل میں نہیں بلکہ عقیدہ میں اور کسی معمولی عقیدہ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کے عقیدہ میں اس کی تعلیم کے مخالف ہوں اس کا کوئی فرد کسی دوسرے مذہب کے بعض افراد کی ایسی باتوں سے جو انہوں نے اپنے مذہب کے خلاف کسی ہوں یہ استدلال کرنے کا کب مجازہ ہو سکتا ہے کہ اب وہ مذہب دنیا کے لئے تسلی دینے کا موجب نہیں ہو سکتا اب ہمارا مذہب تستی دیگا۔ہندو مذہب میں اختلاف کثیر ہے تو اگر یہ سماج کا حال ہے اب میں ہندو مذہب پر مجموعی نظر ڈالتا ہوں۔ہندو مذہب میں اس قدر اختلاف ہے کہ اب تک ہندو کی کوئی تعریف ہی نہیں ہو سکی۔بڑے بڑکے ہندوؤں نے ہندو کی تعریف کرنی چاہی مگر نہیں کر سکے اور آخر تھک کر اقرار کیا کہ ہندو مذہب کوئی مذہب نہیں بلکہ سینکڑوں مذاہب