انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 348

انوار العلوم جلد و فوائد کے لئے قربان کر دیا ہے۔۳۴۸ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب مختلف الخیال اقوام کا کن امورمیں اتحاد ہوسکتا ہے میرے نزدیک وہ لوگ جو پر غیر صاحب کے اس لیکچر پر اس رنگ میں معترض ہیں انہوں نے انسانی دماغ کی بناوٹ پر غور ہی نہیں کیا اور دوسروں کو تو انھوں نے کیا سمجھانا تھا خود اپنے نفس کو بھی انھوں نے نہیں سمجھا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح ہم نے اپنے ہندو بھائیوں کو ساتھ ملانے کے لئے گائے کی قربانی چھوڑ دی ہے وہ بھی ہمیں اپنے ساتھ ملانے کے لئے اپنے مذہبی خیالات کے اظہار سے باز رہیں اور اسلام کے ساتھ اس کا مقابلہ نہ کریں حالانکہ وہ اتحاد جس میں یہ شرط رکھی جائے کہ اختلاف آراء کا اظہار نہ ہو دو مختلف الخیال اقوام میں ناممکن ہے۔ایسا اتحاد سے عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتا اور ضرور ہے کہ جلد یا بدیر ضمیر اپنی طاقت کو ظاہر کرے اور ایک فریق سے ایسے خیالات کا اظہار کرائے جو دوسرے فریق کے نزدیک درست نہیں ہیں۔جو لوگ اتحاد کے لئے یہ شرط رکھتے ہیں کہ کسی قسم کا اختلاف نہ ہو وہ انسانی فطرت سے واقف نہیں ہیں اور ہرگزنہ اس قابل نہیں کہ اتحاد قائم کرنے کا کام ان کے ہاتھوں میں دیا جائے۔اتحاد کے قیام کا ایک ہی ذریعہ ہوتا ہے کہ اختلاف کے وجود کو تسلیم کر لیا جائے اور صرف ان امور میں اختلاف کو روکا جائے جن پر کہ اتحاد کرنا مد نظر ہے اور اس طرز کے اختلاف کو روکا جائے کہ جس اختلاف سے اس کام کا چلنا مشکل ہو جائے جس میں اتحاد کیا گیا ہے۔مثلاً ایک ہندو اور ایک مسلمان مشترک دکان کرنے لگے ہیں تو اگر وہ یہ شرط کریں کہ مسلمان نماز نہ پڑھا کرے اور ہندو مندر میں نہ جایا کرے تو یہ اتحاد بناوٹی ہے اور خلاف قدرت ہے یہ ضرور ٹوٹ کر رہے گا اور اتنی عمر نہیں پائے گا جتنی کہ صحیح بنیادوں پر رکھا ہوا اتحاد پایا کرتا ہے۔یہ اتحاد یا تو اخلاق فاضلہ کا خون کریگا اور بے غیرتی پیدا کریگا یا جلد ٹوٹ کر فتنہ و فساد کا دروازہ کھول دیا اور امر اول کا نتیجہ بھی آخر میں فساد ہی ہوگا کیونکہ جو شخص ان عقائد کو جن پر وہ یقین رکھتا ہے یا ان اعمال کو جن کو وہ مستحسن خیال کرتا ہے دنیاوی فوائد کے حصول کے لئے چھوڑتا ہے وہ کسی خاص فائدہ کی امید میں اس اتحاد کو بھی ترک کر سکتا ہے۔پس اتحاد و ہی اتحاد ہے جس کی بنیاد اس امر پہ ہو کہ حق اور راستی کے خلاف جو امور نہ ہوں گے ان میں لیکر کام کیا جائیگا اور ایک دوسرے کے عقیدہ اور خیال میں یا اس کے ذاتی عمل میں دست اندازی نہ کی جائیگی۔