انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 347

پیشه اه النوار العلوم جلد ۵ ۳۴۷ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب اسلام پر ایک آریہ پروفیسر کے حملہ کا جواب از حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ دار ادا خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ماهير آریہ پروفیسر صاحب کی تقریر پہلے دنوں وہور میں آریہ سماج کے دونوں حصوں کے جیسے تھے۔ان جلسوں میں جہاں اپنے قومی امور کے متعلق تقریریں ہوئیں وہاں دوسرے مذاہب سے اپنے مذہب کا مقابلہ کرکے بھی دکھایا گیا۔ان تقاریر میں سے گور دکل پارٹی کے ایک لیکچرار پروفیسر رام دیو صاحب کی تقریر خصوصیت کے ساتھ عام پبلک کے خیالات میں ایک جوش پیدا کر رہی ہے۔اس تقریر کا موضوع یہ تھا کہ دیگر مذاہب مثلاً بدھ مذہب اور سیمی مذہب اور اسلام اس زمانہ کے حالات کے مطابق نہیں ہیں اور سائنس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔لیکن ہندو مذہب چونکہ خود سائنس کا سرچشمہ ہے اس کو علوم کی ترقی سے خطرہ نہیں۔پس یہی آئندہ دنیا کا مذہب ہے۔تقریر سے مسلمانوں میں جوش ان مسلمانوں میں جین کو اس لیکچر کا علم ہوا ہے ایک شام جوش ہے کہ اس صلح کے زمانہ میں اس قسم کے مضامین پر لیکچر دینے سے اس اتحاد میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جو بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا تھا۔مگر میرے نزدیک آریہ سماج کی یہ روح اس بے غیرتی کے مقابلہ میں جو بعض مسلمانوں نے دکھائی ہے بہت زیادہ قابل تحسین ہے۔آریہ سماج نے ثابت کر دیا ہے کہ جو تھوڑا بہت تعلق بھی اسے مذہب سے ہے وہ اس کو اس سیاسی شورش کے زمانہ میں بھی چھوڑ نہیں سکتی یا یہ کہ وہ مذہبی جوش کو سیاسی کامیابی کے لئے ضروری سمجھتی ہے لیکن بعض مسلمانوں نے اس کے برخلاف اپنے مذہبی احکام کو نیادی