انوارالعلوم (جلد 5) — Page 323
انوار العلوم جلد ۵ ۳۲۳ اسلام اور حریت و مساوات قائل نہیں۔ہم صرف قرآن کریم میں نسخ کے منکر ہی نہیں بلکہ اس کے خلاف ہمیشہ سے زور دیتے چلے آئے ہیں اور ہمارا تمام لٹریچر اس پر شاہد ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان تمام آیات کی ضرورت اور حکمت بیان کر سکتے ہیں جن کو لوگ منسوخ سمجھتے ہیں۔ہماری جماعت کی طرف سے جو قرآن کریم کے پہلے پارہ کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے اس میں میرا ہی لکھا ہوا ایک نوٹ آیت مَا نَفْسَخ مِنْ آيَةٍ أَو نُنَسِهَا نَاتِ بِخَيرِ مِنْهَا (البقرة : ١٠٠) کے متعلق اس مضمون کا درج ہے کہ دوسرے معنی جو بعض مترجم اس آیت کے کرتے ہیں۔یعنی بعض آیات قرآنیہ منسوخ ہو گئی ہیں۔نہ صرف قرآن کریم کے اور اس آیت کے مضمون کے برخلاف ہیں۔بلکہ اقوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی تردید کرتے ہیں۔حق یہ ہے کہ بعض انگریز مترجموں کا خیال کہ قرآن کریم کے بعض حصص منسوخ ہو گئے ہیں۔ایک غلط اور دھوکا دینے والا خیال ہے قرآن کریم کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہوا۔تمام کا تمام قرآن نہیں بلکہ اس کا ہر ایک لفظ اور اس کی ہر ایک حرکت نسخ کے عمل سے بالکل بالا ہے۔قرآن کریم میں کوئی دو متضاد حکم نہیں ہیں۔اس لئے نسخ کا مسئلہ درمیان میں لانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔جو اختلافات کہ بیان کئے جاتے ہیں وہ صرف نسخ کے قائلوں کے خلاف اس امر کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے قرآن کریم پر گہری نظر نہیں ڈالی۔الم صفحہ ۸۹۰۸۸ - اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ میں نسخ کا کیسا مخالف ہوں۔اور اس کے علاوہ میری بہت سی تحریرات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ میں نسخ کے مسئلہ کو ایک نہایت ہی بے بنیاد اور دین میں رخنہ ڈالنے والا مسئلہ سمجھتا ہوں۔پھر با وجود جماعت احمدیہ کے عام عقیدہ اور میری اپنی تحریرات کی موجودگی کے نہ معلوم خواجہ صاحب کو کیونکر جرات ہوئی کہ وہ میری طرف اس عقیدہ کو منسوب کریں۔یہ تو میں نے جماعت احمدیہ کا اور اپنا عام اور مشہور اور شائع شدہ مذہب بیان کیا ہے۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ میرے جس مضمون سے خواجہ صاحب استدلال کرتے ہیں کہ میں نے آیت انفاق کو منسوخ قرار دیا ہے اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ میں نسخ کا قائل نہیں ہوں۔بلکہ جس عبارت ے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ میں نے نسخ فی القرآن کا عقیدہ بیان کیا ہے اسی سے اس کے خلاف ثابت ہوتا ہے۔میری وہ عبارت جس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ میں نے آیت انفاق کو منسوخ قرار دیا ہے یہ ہے کہ جو لوگ صدقات کا ذکر بتاتے ہیں۔(آیت انفاق میں ، وہ بھی اس آیت کے کئی معنے کرتے ہیں بعض تو کہتے ہیں کہ عضو کے معنے ضرورت سے زائد بچے ہوئے مال کے ہیں شروع اسلام میں سال بھر کے نفقہ سے جو بیچ رہے۔اس کے فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم تھا۔مگر آیت زکوۃ کے