انوارالعلوم (جلد 5) — Page 314
انوار العلوم جلد ۳۱۴ اسلام اور حریت و مساوات جہاد کا بے تعلق ذکر اور حضرت مسیح موعود پر حملہ خواجہ صاحب نے اپنے مضمون میں بلا کسی ظاہری تعلق کے جہاد کا بھی ذکر کر دیا ہے اور حضرت مسیح موعود پر حملہ کیا ہے کہ آپ جہاد کے مخالف تھے۔لیکن علاوہ اس کے کہ یہ بات بالکل بے تعلق ہے غلط بھی ہے۔حضرت مسیح موعود نے کبھی نہیں تحریر فرمایا کہ باوجود جہاد کا موقع ہونے کے جہاد جائز نہیں بلکہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ یہ موقع جہاد کا نہیں کیونکہ جہاد کی شرائط اس وقت نہیں پائی جاتیں۔مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ اس مضمون کا جہاد کے ساتھ تعلق کیا ہے؟ خواجہ صاحب کے تمام مضمون کے پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پریشان خیالات کا ایک طوفان اٹھا ہے جو انہوں نے کاغذ کی نذر کر دیا ہے۔آنتیں ہیں تو ان کا اصل مضمون سے کچھ تعلق نہیں۔باتیں ہیں تو وہ مقصد سے دور۔ان کو تو خیر کسی وجہ سے جوش آگیا ہو گا۔مجھے ایڈیٹر صاحب وکیل پر تعجب ہے که با وجود ایک فہمیدہ اور تجربہ کار آدمی ہونے کے بلا نظر ثانی کرنے کے انہوں نے یہ مضمون شائع کس طرح کر دیا ؟ جس حصہ مضمون کو دیکھو وہی سوال از آسمان اور جواب از ریسمان کی مثال ہے۔خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی میں مضمون ختم کرنے سے پہلے یہ کے بغیر نیں رہ سکتا کہ خواجہ صاحب نے اپنے مضمون میں مناسب ادب سے بھی کام نہیں لیا۔حضرت مسیح موعود علی الصلوة والسلام کا ذکر بلاوجہ تو وہ لائے ہی تھے۔اللہ تعالیٰ کی نسبت بھی انہوں نے ایک جگہ ایسا لفظ استعمال کیا ہے جو سخت ہتک آمیز ہے۔لکھتے ہیں کہ مطلق العنان حکومت صرف اللہ تعالی ہی کے لئے خاص ہے مطلق العنان کے معنے ہوتے ہیں جس کی باگ چھوڑ دی جائے۔اس قسم کا ذلت پر دلالت کرنے والا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا ایک مومن کی شان سے بعید ہے بے شک استعارہ اور مجاز کلام میں ہوتا ہے۔لیکن وہ لفظ جو انسانوں کے لئے بھی دراصل بینک کا موجب ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا سخت تعجب انگیز ہے اگر خواجہ صاحب کی نسبت کوئی شخص مطلق العنان کا لفظ استعمال کرے تو وہ ضرور اس کو بُرا منائیں گے۔پھر نہ معلوم خدا تعالیٰ کے لئے یہ لفظ انہوں نے کیوں استعمال کیا۔مجازاً ہی کوئی لفظ استعمال کرنا تھا تو ایسا لفظ استعمال کرتے جو ظلم اور نخودسری پر دلالت نہ کرتا۔آخر میں میں پھر خواجہ صاحب کو نصیحت کرتا ہوں کہ کسی کا خواجہ صاحب کو نصیحت مضمون بغور پڑھنے سے پہلے اس کا جواب نہ دینے بیٹھے جایا کریں اور قرآن پر زیادہ تقدیر کی عادت ڈالیں۔قرآن کریم کا مطالعہ نہ کرنا بھی عیب ہے اور اس کا