انوارالعلوم (جلد 5) — Page 298
انوار العلوم جلد ۵ اسلام اور حریت و مساوات پر مبنی نہیں۔کیونکہ با وجود ایک ایسی بات پر یقین رکھنے کے جس میں شناعت کا پہلو موجود ہے۔وہ ایک ایسی بات پر اعتراض کرتا ہے جس میں کوئی شناعت کا پہلو موجود ہی نہیں۔یا مثلاً یہ کہ کوئی مسیحی اسلام پر اعتراض کرے کہ اسلام کی ترقی کا باعث جنت کا عقیدہ ہے۔لوگوں کو لالچ دلا کر اسلام میں داخل کر لیا گیا ہے۔اور اس کا کوئی مسلمان یہ جواب دے دے کہ ہاں جس طرح ادنی اقوام کو سچی روپیہ پیسہ دے کر اور قسم قسم کی لالچیں دے کر سیحی بنا لیتے ہیں اسی طرح مسلمانوں نے بھی کیا ہے۔یہ جواب بھی اسی قسم کے الزامی جوابوں میں شامل ہو گا جو پہلے مذکور ہوئے ہیں۔مگر پہلے دو جوابوں میں اور اس جواب میں یہ فرق ہو گا کہ پہلا الزامی جواب تو ایک ایسے اعتراض کے متعلق تھا جس کا مورد اسلام میں موجود ہی نہ تھا اور دوسرا الزامی جواب ایک ایسے اعتراض کے متعلق ہے جس کا مورد تو موجود تھا لیکن اس پر وہ اعتراض نہ پڑتا تھا جو دشمن نے کیا۔اور یہ آخری مثال اس امر کی ہے کہ جو اعتراض کیا گیا تھا وہ اعتراض ہی نہیں ہے۔اس قسم کی تحریک کرنی کہ اس مذہب کو قبول کر کے تم سکھ پاؤ گے لالچ نہیں ہے بلکہ مذہب کی ضرورت کا اظہارہ ہے اور اس دعوی کے بغیر کوئی مذہب سچا ہو ہی نہیں سکتا۔قرآن کریم سے دوسری قسم کے الزامی جواب کی مثال ہے دوسری قسم الزامی جواب کی گو پہلی قسم کی نسبت مضبوط ہے لیکن پھر بھی اس میں یہ کمزوری ہے کہ اس سے دشمن کی کمزوری اور اس کا تعصب تو ظاہر ہو جاتا ہے لیکن اس امر کی نسبت لوگوں کا علم وسیع نہیں ہوتا جس پر اعتراض کیا گیا تھا کیونکہ لوگ دیکھتے ہیں کہ جس امر کی طرف اشارہ کر کے معترض کو خاموش کیا گیا ہے وہ امراور قسم کا ہے اور جس پر اعتراض کیا گیا ہے وہ اور قسم کا ہے۔اور ان کے دل میں یہ تڑپ باقی رہتی ہے کہ اس کی خوبیوں پر بھی اطلاع ملے بلکہ معترض کے دل میں بھی یہی خواہش باقی رہتی ہے گو وہ اس جواب کے ڈر سے دوبارہ اعتراض اُٹھانے کی جرأت نہیں کرتا۔یہ تم جواب کی اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کے ساتھ اصولی جواب بھی دے دیا جائے چنانچہ قرآن کریم میں اس قسم کے الزامی جوابوں کی مثالیں ملتی ہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے : الَّذِينَ قَالُو إِنَّ اللهَ عَهِدَ النَا الأَنُؤْمِنَ لَرَسُولِ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرُبَانِ تأكلهُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَاءَ كُمُ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِي بِالبَيتِ وَبِالَّذِى قُلْتُمْ فَلم تَتَلتُمُوهُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ (ال عمران یعنی وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالی (TAM) نے نہیں حکم دیا ہوا ہے کہ ہم صرف اس رسول کو مانیں جو سوختنی قربانی کا حکم دے۔ان سے کہہ دو