انوارالعلوم (جلد 5) — Page 207
انوار العلوم جلد ۵ ترک موالات اور احکام اسلام یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں دو قسم کے امور ہوتے ہیں ایک وہ جو شریعت کے ماتحت ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو مصلحت وقت کے ماتحت ہوتے ہیں۔جو امور کہ شریعت کے ماتحت ہوں جب وہ حالات پائے جاویں جن میں شریعت نے ان کے کرنے کا حکم دیا ہے تو ان لوگوں کا جنہیں ان کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو فرض ہوتا ہے کہ وہ ان احکام کو پورا کریں خواہ جان جاوے خواہ مال قربان ہو ، خواہ عزیز و اقارب ضائع ہوں بغرض صرف ان ہی عذرات سے ان احکام کو چھوڑا جا سکتا ہے جن کو خود شریعت نے عذر قرار دیا ہے ان کے سوا عذرات پر خواہ وہ کسی قدر ہی بڑے کیوں نہ ہوں ان احکام کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔مثلاً جہاد کا حکم ہے جب جہاد کا حکم شریعت دے گی تو اندھے بگڑے، لوہے، ایسے مریض جو پیل پھر نہیں سکتے یا بالکل بوڑھے ، عورت ہیں اور بچے تو اس سے معذور ہو جاویں گے۔مگر ایک شخص جس کا دست کروڑ کا مال ضائع ہو رہا ہو وہ بغیر اجازت امام کے معذور نہیں قرار پاسکتا بغرض جسمانی نقص کے سوا کوئی روی تسلیم نہیں کی جاوے گی۔لیکن وہ امور جو شریعت کے ماتحت نہیں ہوتے بلکہ ان کا کرنا نہ کرنا ہماری مرضی پر منحصر ہوتا ہے ان کے کرتے وقت مصلحت وقت کا دیکھنا ضروری ہوتا ہے اگر ان کے کرنے کی نسبت نہ کرنے میں فائدہ ہے تو ان کا نہ کرنا بہتر ہوگا۔اور اگر نہ کرنے سے کرنے میں فائدہ ہے تو کرنا بہتر ہوگا۔شرعی حکم کی موجودگی میں یہ کہنا کہ اس کام کے کرنے میں بڑا نقصان ہوگا جہالت ہے اور کمی ایمان کی علامت ہے۔جب خدا کا حکم ہے تو خواہ کچھ ہو جائے اس کو کرنا چاہئے۔لیکن جہاں شمری حکم کوئی نہ ہو وہاں نقصان کی زیادتی کو دیکھ کر بھی کسی کام کے کرنے پر اصرار کرنا نادانی ہے کیونکہ جب شرعی حکم کوئی نہیں تو ہمارا فرض ہے کہ اپنے اور اپنی قوم کے فوائد کوملحوظ رکھیں۔ترک موالات کئے مسلہ میں پیچیدگیاں اور ان کا حل میں نے جہاں تک سوچا ہے ترک موالات کے متعلق بحث کرتے وقت اس مذکورہ بالا اصل کو اچھی طرح نہیں سمجھا گیا اس لئے اس مسئلہ کے متعلق جس قدر بخشیں ہو رہی ہیں وہ دن بدن زیادہ پیچیدہ ہوتی جاتی ہیں کیونکہ کبھی تو اس کو دینی مسئلہ قرار دیا جاتا ہے اور جب اس میں کوئی مشکل پیش آجاتی ہے تو اسے ایک سیاسی اور ملکی سوال قرار دیا جاتا ہے یا اس کے الٹ طریق اختیار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس مسئلہ کا حل نہایت مشکل ہو گیا ہے۔حالانکہ مناسب یہ تھا کہ اس مسئلہ کے دونوں پہلوؤں پر الگ الگ نظر ڈالی جاتی۔پہلے اس بات کو دیکھا جاتا کہ کیا ترک موالات شرعی حکم ہے ؟ اگر وہ شرعی حکم ثابت ہو جاتا تو پھر بلا نتیجہ کے خوف کے اس پر عمل شروع کر دیا جاتا اور اگر شرعی حکم ثابت نہ ہوتا تو پھر یہ سوچا جاتا کہ آیا ترک موالات ہمارے لئے زیادہ مفید ہے یا اس کے سوا اور