انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 180

انوار العلوم جلد ۵ معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ طرف سے ہوئی ہے۔اور پھر یہ بھی کہ اتحادیوں نے ترکوں سے اس لئے جنگ کی تھی کہ وہ ان کو جبراً مسیحی بنائیں جہاد ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے جو برطانیہ کی حکومت کے نیچے رہتے ہیں جائز نہیں ہو سکتا۔تمیری تجویز یہ ہے کہ گورنمنٹ سے قطع تعلق کیا جاوے اس تجویز کے متعلق بھی میری یہ رائے ہے کہ قطع تعلق بھی ایک قسم مقابلہ کی ہے۔اور اس پالیسی پر عمل کر کے بھی ہندوستان میں امن قائم نہیں رکھ جا سکتا۔ضرور ہے کہ جو لوگ اپنے کاموں سے علیحدہ ہوں آہستہ آہستہ ان کی ضروریات دنیا دی ان کو تنگ کریں اور وہ مجبور ہو کرنا جائز ذرائع اور جبر سے اپنے گزارے کا سامان پیدا کریں۔پھر بیشتر اس کے کہ اس تجویز پر عمل کیا جاوے یہ بھی سوچنا چاہتے کہ اس تجویز کی عرض کیا ہے۔میرے نزدیک اس کی ایک ہی غرض ہو سکتی ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ پر اس ذریعہ سے دباؤ ڈالا جاوے اور اس غلطی کی اصلاح کروائی جاوے جو ترکوں کے معاہدہ صلح میں ہوئی ہے سو اول تو اگر اس قطع تعلق کا کوئی اثر ہو بھی تو وہ صرف ہندوستان پر ہو گا اور ہو گا بھی سالہا سال کے بعد۔کیونکہ اگر یہ مان بھی لیا جاوے کہ سب مسلمان اس بات پر آمادہ ہو جاویں گے تو بھی اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کو اس کام کے لئے آمادہ کرنے کے لئے سالہا سال کی جدوجہد اور تلقین کی ضرورت ہوگی۔اور اس وقت تک کہ یہ تجویز عملی جامہ پہنے گی معاہدہ ترکیہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہو چکا ہو گا۔اور اس وقت اگر گورنمنٹ برطانیہ کی مرضی بھی ہوگی تب بھی وہ فرانس اور یونان اور آرمینیا کو اپنے اپنے حصہ سے علیحدہ نہیں کرسکے گی۔دوم اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ اگر سب مسلمان اس تجویز پر عمل کرنے لگیں تب بھی وہ گورنمنٹ پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتے کیونکہ اس ملک کی آبادی کی صرف چوتھا حصہ مسلمان ہے ہ ہندو ہیں اور قریباً چالیس لاکھ مسیحی ہیں۔پس اگر گورنمنٹ کو اس کے خطاب واپس کر دیے جاویں تو اس سے اس کا کوئی نقصان نہیں۔اور اگر اس کی ملازمت سے علیحدگی کی جاوے تو ہندوستان کی ۳ آبادی ان کی جگہیں پھر کرنے کے لئے تیار ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ہند و سر بر آوردہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ شریک ہونے کے لئے آمادہ ہیں۔لیکن اس تجویز کی مخالفت ہندوؤں میں بہت زیادہ ہے اور یقیناً پانچ فیصدی ہندو بھی مسلمانوں کا ساتھ نہ دیں گے۔اگر مسلمان وکلاء اپنا کام چھوڑ دیں گے تو خود مسلمان اپنی داد رسی کے لئے ہند و وکلاء کی خدمات کو حاصل کریں گے اور وہ شوق سے ان کے مقدمات لیں گے اور اگر مسلمان حج استعفاء دے دیں گے تو ہند و امید وار فوراً ان کی جگہ لینے کے لئے آگے بڑھیں گے۔اگر فوجی مسلمان استعفاء دے دیں گے تو علاوہ اس کے کہ وہ فوجی قواعد کی خلاف ورزی کر کے سزا پا دیں گے ان کا مستعفی ہو