انوارالعلوم (جلد 5) — Page 112
انوار العلوم جلد ۵ تقریر سیالکوٹ زمانہ میں بھی ثابت ہو۔رسول کریم کے شاہد کی بعثت میرے آج کے لکیر کا موضوع یہی ہے کہ میں اس بات کو ثابت کروں کہ خدا تعالیٰ کو اس زمانہ میں اسلام کی حالت دیکھ کر غیرت آئی اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرنے کے لئے اس شاہد کو کھڑا کر دیا۔جس کا اس نے قرآن کریم میں وعدہ کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہندوستان ہی سے جو تمام مذاہب کا جولانگاہ بنا ہوا ہے اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے کھڑا کیا ہے تاکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دُنیا میں پھیلائے اور آپ کا نام روشن کرے اور ثابت ہو جائے کہ آپ نعوذ باللہ کوئی قریبی اور دغا باز نہ تھے بلکہ خدا تعالیٰ کے پیارے اور محبوب تھے۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے آکر یہی ثابت کیا اور ہم یہی مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اسی بات کو ثابت کرنے کے لئے مرزا صاحب کو کھڑا کیا تھا۔پس حضرت مرزا صاحب کا دعوی کوئی نیا دعوی نہیں تھا بلکہ یہی تھا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے اور اسلام کو مخالفین کے حملوں سے بچانے کے لئے کھڑا کیا ہے اور مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہونے کا فخر ہے۔آپ کو خواہ مسیح کہیں یا مهدی، رسول کہیں یا نبی ، بہر حال اس کا مطلب یہی ہو گا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہو کر آئے ہیں۔حضرت مرزا صا حیجے دعوی کی صداقت اب میں اس بات کا ثبوت دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے جو دعوای کیا اس کو انہوں نے کس طرح پورا کیا۔کوئی کہ سکتا ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ قرآن کریم میں جس شاہد کے آنے کا ذکر ہے وہ مرزا صاحب ہیں ؟ اس کے متعلق میں یہ عرض کرتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کی سچائی معلوم کرنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا وہ جھوٹے تھے ، غلطی خوردہ تھے ، یا مجنون تھے ، یہی وہ تین باتیں ہیں جن میں سے کوئی نہ کوئی اس شخص میں پائی جائے گی جو ایک دعوی کرتا ہے مگر سچا نہیں ہے۔اور یہ تینوں باتیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ہو سکتا ہے کہ ایک دعوی کرنے والا جھوٹا ہو یا ہو سکتا ہے جھوٹا نہ ہو مگر کسی وجہ سے اسے غلطی لگ گئی ہو یا ہو سکتا ہے غلطی تو نہ لگی ہو لیکن پاگل اور مجنون ہو اب ہم دیکھتے ہیں حضرت مرزا صاحب نے جو دعوای کیا ہے وہ کیسا ہے۔آیا آپ جھوٹے ہیں یا غلطی خوردہ ہیں یا مجنون ہیں۔ان میں سے کون سی بات پائی جاتی ہے۔