انوارالعلوم (جلد 5) — Page 111
نکال کر اسلام پر حملہ کیا جاتا ہے۔غرض ایک طرف نئے نئے علوم نے مسلمانوں کے دلوں سے اسلام کی قدر و وقعت کو مٹا دیا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کی عملی حالت دیکھ کر مخالفین حملہ آور ہوتے ہیں تیسری طرف جب مسلمان دنیاوی طور پر گر گئے تو دشمنوں کو اسلام پر اور زیادہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔پس یہ وہ وقت ہے جبکہ اس شاہد کے آنے کی ضرورت ہے شاہد کے آنے کی ضرورت جو آکر ثابت کر دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے ** تھے خدا کے محبوب اور پیارے تھے۔اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب شاہد کے آنے کی ضرورت ثابت ہے اور کوئی اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام کے لئے یہ نہایت ہی خطرناک زمانہ ہے۔آج زمین و آسمان مسلمانوں کے دشمن ہو گئے ہیں آسمان سے جو بلائیں آتی ہیں ان سے مسلمان ہی زیادہ مرتے ہیں۔اور زمین پر جو لڑائیاں ہوتی ہیں ان میں بھی مسلمان ہی سب سے زیادہ زیر عتاب آتے ہیں۔ایسی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت رکھنے اور آپ کی اُمت کو بچانے کے لئے خدا تعالیٰ نے کیا سامان کیا ؟ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی کوئی ایسا موقع آئے گا تو خدا تعالیٰ انتظام کرے گا۔چنانچہ وہ خود کہتا ہے کہ میری طرف سے ایک گواہ آئے گا جو اس رسول کی صداقت ثابت کرے گا۔ہم کہتے ہیں اگر اب خدا تعالیٰ نے یہ انتظام نہ کیا تو پھر کب کرے گا۔ایک شاعر کہتا ہے۔جب مرگئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم تیرے ایسے پیار پر اگر اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کا سچا رسول ہے اگر قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے تو آج وہ وقت ہے جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسلام کی مدد ہونی چاہئے ورنہ اگر اب بھی خدا تعالیٰ نے مدد نہ کی تو کہا جائے گا کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب نہیں کیونکہ جب کوئی انسان یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ ایک شخص اس کے سامنے اس کے بچے کی گردن پر چھری چلائے اور وہ چپکا بیٹھا رہے تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اگر اسلام خدا کی طرف سے ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خُدا کے نیچے رسول ہیں، قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے تو جب ان پر طرح طرح کے حملے ہو رہے ہیں خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں نہ آئے اور وہ ان کی حفاظت کا کوئی سامان نہ کرے۔پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیچتے ہیں اور ہر ایک مسلمان تسلیم کرتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کے نیچے رسول ہیں تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایسے سامان ضرور ہونے چاہئیں جن سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس