انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 53

انوار العلوم جلد ۵ ۵۳ صداقت اسلام صداقت اسلام اور ذرائع ترقی اسلام ر خطاب حضرت فضل عمر خلیفہ اسی الثانی فرموده ۲۶ فروری بمقام بندے ماترم بال امرتسر ) مذہب کی عرض میرا مضمون آج صداقت اسلام پر ہے کہ اسلام کی صداقت کے کیا ثبوت ہیں اور اس وقت اسلام سے تعلق رکھنے والوں کی ترقی کے کیا ذرائع ہیں۔کسی مذہب کی صداقت پر غور کرنے سے پہلے یہ نہایت ضروری امر ہے کہ ہم دیکھیں کہ مذہب کی غرض کیا ہے ؟ کیونکہ جب تک یہ معلوم نہ ہو ممکن ہے کسی مذہب کی صداقت پر بحث کرتے ہوئے کہیں سے کہیں نکل جاتیں اور جس چیز کو صداقت کا ثبوت سمجھیں وہ اس سے کوئی تعلق ہی نہ رکھتی ہو مثلاً جب کوئی شخص مکان خریدنے کے لئے جائے تو اس کی یہ غرض نہیں کہ اچھے بیل بوٹے اسے نظر آئیں یا یہ نہیں ہوتی کہ مکان کے اندر کوئی خاص قسم کا حوض بنا ہوا ہو۔بلکہ اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ انسان اس کے اندر سردی گرمی کی تکلیف سے بیچ سکے ، اپنے مال کی حفاظت کر سکے اور اس کے تعلقات خاندانی میں کوئی دوسرا مخل نہ ہو سکے۔یہ مکان کی غرض ہوتی ہے اور مکان خرید نے کے وقت اسی کو دیکھا جائے گا۔اگر یہ پوری ہو جائے تو خرید لیا جائے گا اور اگر یہ نہ پوری ہو گی تو ہم کبھی خریدنے کے لئے تیارہ نہ ہوں گے۔کیا اگر چھت تو نہ پڑی ہو لیکن دیواروں پر بیل بوٹے بنے ہوں تو اس مکان کو لینے کے لئے ہم تیار ہو جائیں گے ؟ ہرگز نہیں۔کیونکہ اس سے مکان کی غرض پوری نہیں ہوتی۔اسی طرح جب ہم مذہب کی صداقت کے متعلق غور کرنے لگیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس بات کو سوچیں کہ مذہب کی غرض کیا ہے ؟ تاکہ پھر یہ دیکھ سکیں کہ کون سا مذہب اس کو پورا کرتا ہے اور جو پورا کرے گا وہی مذہب سچا اور قابل قبول ہوگا۔پس چونکہ جب تک مذہب کی غرض معلوم نہ ہو جائے اس وقت تک نیچے مذہب کی شناخت نہیں ہو سکتی اس لئے صداقت مذہب پر بولنے سے قبل ہر لیکچرار کا فرض ہے کہ مذہب کی غرض