انوارالعلوم (جلد 5) — Page 598
انوار المعلوم جلد ۵ ۵۹۸ ہدایات زریں کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے ہر وقت اپنے کام کا ہی فکر رکھنا چاہئے ۔ اور اگر کہیں ایسی باتیں ہو رہی ہوں جو اس کے دائرہ عمل میں داخل نہیں ہیں تو وہ واعظانہ رنگ اختیار کرے اور کہے کہ جو دائرہ میں ہں تو وہ اختیار کرے اور کیسے ؟ اتفاق و اتحاد ہی اچھا ہوتا ہے اور وہی طریق عمل اختیار کرنا چاہئے جس میں کوئی فساد نہ ہو کوئی فتنہ نہ پیدا ہو اور کسی پر ظلم نہ ہو۔ اس کے سوا کیا ہو یا کیا نہ ہو اس میں پڑنے کی اسے ضرورت نہیں ہے بلکہ یہی کہے کہ ہر ایک وہ بات جو فساد ، فتنہ اور ظلم وستم سے خالی ہو اور حق و انصاف پر مبنی ہو اسے ہم ماننے کے لئے تیار ہیں اور اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ جو بات حق و صداقت پر مبنی ہو اسے ہم ہر وقت ماننے کے لئے تیار ہیں ۔ اکیسویں ہدایت اکیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ کو اس بات کی بھی نگرانی کرنی چاہئے کہ ہماری جماعت کے لوگوں کے اخلاق کیسے ہیں ۔ مبلغ کو اپنے اخلاق درست رکھنے بھی نہایت ضروری ہیں۔ مگر اس کے اخلاق کا اثر مخالفین پر اتنا نہیں ہوتا جنتا ان لوگوں کے اخلاق پر ہوتا ہے جو ہر وقت ان کے پاس رہتے ہیں۔ مبلغ تو ایک آدھ دن کے لئے کسی جگہ جائے گا اور مخالفین اس کے اخلاق کا اندازہ بھی نہ لگا سکیں گے۔ ان پر تو وہاں کے احمدیوں کے اخلاق کا ہی اثر ہو گا۔ لیکن اگر ان احمدیوں کے اخلاق اچھے نہیں جو ان میں رہتے ہیں تو خواہ انہیں کوئی دلیل بناؤ ان کے سامنے وہاں کے لوگوں کے ہی اخلاق ہوں گے اور ان کے مقابلہ میں دلیل کا کچھ بھی اثر ان پر نہ ہو گا۔ پس مبلغ کا یہ اولین فرض ہے کہ جہاں جائے وہاں کے لوگوں کے متعلق دیکھے کہ ان ۔ کہ ان کے روحانی اور ظاہری اخلاق کیسے ہیں ۔ ان کے اخلاق اور عبادات کو خاص طور پر دیکھے اور ان کی نگرانی کرتا رہے۔ جب بھی جائے مقابلہ کرے کہ پہلے کی نسبت انہوں نے ترقی کی ہے یا نہیں۔ به نهایت ضروری اور اہم بات ہے اور ایسی اہم بات ہے کہ اگر اخلاق درست نہ ہوں تو ساری دلیلیں باطل ہو جاتی ہیں۔ اور اگر اخلاق درست ہوں تو ایک آدمی بھی بیسیوں کو احمدی بنا سکتا ہے ۔ کیونکہ دس تقریریں اتنا اثر نہیں کرتیں۔ جتنا اثر ایک دن کے اعلی اخلاق کا نمونہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ مشاہدہ ہوتا ہے اور مشاہدہ کا اثر دلائل سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ دیکھو اگر ذلك الكتب لَا رَيْبَ فِيهِ کا اثر بذریعہ کشف دل پر ڈال دیا جائے تو اس کا اتنا اثر ہو گا کہ سارے قرآن کے الفاظ پڑھنے سے اتنا نہ ہو گا۔ کیونکہ وہ مشاہدہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیاء نے کہا ہے ایک آیت پر عمل کرنا بہتر ہے بہ نسبت سارا قرآن پڑھنے کے ۔ اس کا غلط مطلب سمجھا گیا کہ ایک ہی آیت کو لے لینا چاہئے اور باقی قرآن کو چھوڑ دینا چاہئے ۔ حالانکہ اس سے مراد وہ اثر ہے جو کسی