انوارالعلوم (جلد 5) — Page 582
ש انوار العلوم جلد ۵ ۵۸۲ ہدایات زرین پیکر ہو۔ بلکہ اس لئے قتل نہیں کرتا کہ قانون اسے پھانسی دے گا ۔ اس لئے ایسے ممالک میں جو متمدن ہوں قانون کے ڈر کی وجہ سے لوگ ظلم ہے رکھتے ہیں۔ لیکن جہاں تمدن نہ ہو وہاں ذاتی تعلقات بہت زوروں ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ہر ایک شخص اپنا بچاؤ اسی میںسمجھتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے آدمیوں کی جنبہ داری کرے کے تا وہ بھی بوقت ضرورت اس کی جنبہ داری کریں اور اس طرح ان ممالک میں کوئی شخص اکیلا نہیں ہوتا ۔ جو حال یہاں گھرانوں کا ہوتا ہے وہ ان ممالک میں قوموں کا ہوتا ہے اور اگر ان ممالک میں پندرہ میں آدمی جان ہتھیلی پر رکھ کر چلے جائیں ۔ اور کچھ لوگوں کو بھی احمدی بنالیں تو اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ ارد گرد پر رکھ کی قومیں ان پر ظلم کریں گی اور قومی جنبہ داری کے خیال سے ان کے ہم قوم بھی احمدیت قبول کرلیں گے اور اس طرح تھوڑے ہی عرصہ میں تمہیں چالیس لاکھ آدمی سلسلہ میں داخل ہو سکتا ہے ۔ افریقہ کے لوگ اسی طرح عیسائی ہوئے ۔ پہلے پہل ان میں ایک عورت گئی جو علاج وغیرہ کرتی تھی ۔ اس وجہ سے وحشی لوگ اسے کچھ نہ کہتے ۔ لیکن ایک دن انہیں غصہ آگیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا گئے ۔ اس عورت کا ایک نوکر تھا جسے اس نے عیسائی کیا ہوا تھا اس نے تین سو میل کے فاصلہ پر جا کر جہاں انگریز موجود تھے بتایا کہ وہ عورت ماری گئی ہے وہاں سے ولایت تار دی گئی۔ اور لکھنا ہے کہ جب ولایت میں اس عورت کے مرنے کی تار شائع ہوئی تو جس مشن سے وہ عورت تعلق رکھتی تھی اس میں صبح سے لے کر شام تک بہت سی عورتوں نے درخواستیں دیں کہ ہم کو وہاں بھیج دیا جائے چنانچہ بہت سے مبلغ اپنے خرچوں پر وہاں گئے اور سارے یوگنڈا کے لوگ عیسائی ہو گئے۔ وہ عورت سات سال تک اکیلی وہاں کام کرتی رہی اور جب وہ ماری گئی تو اس کی دلیری اور جرات کی وجہ سے سب میں جرات پیدا ہو گئی اور انہوں نے کسی خطرے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہاں جانے کی درخواستیں دے دیں ۔ پس مبلغ کی جرات بہت بڑا کام کرتی ہے اور اس کی وجہ سے دوسروں میں بھی جرات پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے خوشی سے سنایا کہ پیغامیوں کے مبلغوں کو ایک جگہ مار پڑی ہے وہ تو خوش ہو کر نا رہا تھا مگر میں اس وقت افسوس کر رہا تھا کہ وہاں ہمارے مبلغ کیوں نہ تھے جنہیں مار پڑتی اور دلیری اور جرات دکھانے کا انہیں موقع ملتا ۔ گو افسوس ہے کہ پیغامی مبلغوں نے بزدلی دکھائی اس موقع کو ضائع کر دیا مگر ان کا مار کھانا خود کوئی تنگ کی بات نہ تھی ۔ بلکہ اگر وہ دلیری سے کام لیتے تو یہ ایک قابل قدر کارنامہ ہوتا۔ ہمارے واعظ حکیم خلیل احمد صاحب کو جب کو جب مدراس میں تکلیف پہنچی اور ان پر سخت خطرناک حملہ کیا گیا اور ان کے قتل کرنے کی کوشش کی گئی تو مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے اس خبر