انوارالعلوم (جلد 5) — Page 556
انوار العلوم جلد ۵ ۵۵۶ ملائكة الله 6 کند هم جنس باہم جنس پرواز جو ہم جنس ہو جاتے ہیں ان کو آپس میں تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اس قاعدہ کے ماتحت جو لوگ ملائکہ کی طرح ہو جاتے ہیں ان کے لئے ملائکہ کے فیوض بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ ملائکہ کی صفت خدا تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ لا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحریم : ، وہ خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے۔ جو حکم بھی انہیں ملتا ہے اسے بجالاتے ہیں۔ جب کوئی شخص اسی صفت کو اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے تو اس کے ساتھ ملائکہ کا تعلق ہو جاتا ہے ۔ کوئی کہے یہ تو بڑے لوگوں کا کام ہے چھوٹے درجہ کے لوگ کیا کریں لیکن ایسے لوگوں کے لئے بھی کچھ ذرائع ہیں۔ ان ذرائع کو بیان کرتے ہوئے میں سب ۔ پہلے اس ذریعہ کو لیتا ہوں جو حضرت میسیح موعود نے فرمایا ہے ۔ سب سے۔ پہلا ذریعہ جو حضرت صاحب نے فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ جس انسان پر جبرئیل نازل ہو اس کے پاس بیٹھنے سے یہ بات حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ اس کی آنکھوں سے ، اس کے ہاتھوں سے ، اس کے ناک سے ، اس کے منہ سے ، غرض کہ اس کے جسم کے ہر ذرے سے ایسی نورانی شعاعیں نکلتی ہیں جو قلوب پر اثر کرتی ہیں اور اس طرح ملک انسان پر بالواسطہ نازل ہوتا رہتا ہے ۔ قرآن کریم سے اس کے متعلق اس طرح استدلال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ (التوبة: ١١٩) صادقوں کے ساتھ مل جاؤ۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ صادقوں سے ایسا تعلق پیدا کرو کہ جبرئیل کا جو اثر ان پہ ہوتا ہے اس سے تمہیں بھی سہارا مل جائے ۔ ایک گرے ہوئے کے اُٹھانے کا کیا ذریعہ ہے یہی گروہ دوسرے کو پکڑ کر اور اس کا سہارا لے کر کھڑا ہو جائے ۔ ایسا ہی جبرائیل جس پر نازل ہوتا ہو اس کا سہارا لے کر ایسے لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور یہ بھی قرآن سے معلوم ہوتا درود اور - ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : ۵۷) اللہ اور اس کے ملائکہ اس نبی پر ہر وقت برکتیں بھیج رہے ہیں اور جب وہ برکتیں بھیجتے ہیں۔ تو مؤمنو ! تمہارا بھی یہ کام ہے کہ تم بھی برکتیں بھیجو۔ اس کے متعلق سوال ہو سکتا ہے کہ یہ بات بیشک مانی کہ اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم ہے ۔ مگر یہ کسی طرح معلوم ہوا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ملائکہ سے تعلق ہو جاتا ہے۔ اس کا ثبوت قرآن سے ہی ملتا ہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ