انوارالعلوم (جلد 5) — Page 540
انوار العلوم جلده ۵۴۰ ہیں کہ ہم روحانی ترقی کس طرح حاصل کریں ۔ ان کا جواب یہ ہے کہ روحانی ترقی حاصل کرنے کا طریق یہ ہے کہ انسان اپنے قلب کا مطالعہ کرتا رہے۔ روحانی ترقی یہی ہوتی ہے کہ انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج اور مراتب کا حال معلوم ہوتا جائے اور اس کا ذریعہ ہی ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کے قلب میں نیک تحریکیں زیادہ ہوتی ہیں یا بہ ۔ اگر نیکی کی تحریکیں زیادہ ہوں تو سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کی طرف ملائکہ اس کا قدم بڑھا رہے ہیں۔ بس بجائے اس کے کہ انسان اپنی نمازوں کو اپنے روزوں کو اپنے چندوں کو دیکھے کہ ان میں میں نے کس قدر ترقی کی ہے اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کے قلب میں کیا تحریکیں ہوتی ہیں۔ اس کا قلب اسے زیادہ نماز ، زیادہ روزے اور زیادہ نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے یا نہیں۔ اگر قلب حکم نہیں دیتا تو سمجھ لے کہ جو کچھ کر رہا ہے وہ صرف ایک ابتدائی کوشش ہے یا عادت ہے یا ریاء ہے اور خدائی کام نہیں۔ اگر نمازیں پانچ چھوڑ دس بھی پڑھتا ہے یعنی علاوہ فرائض کے پانچ وقت نوافل ادا کرتا ہے۔ مگر اس کا قلب نماز سے متنفر ہے تو معلوم کرنے کہ ابھی وہ ایسے مقام پر نہیں پہنچا کہ ملائکہ کا اس سے تعلق قائم ہو جائے ۔ بلکہ ممکن ہے کہ ابھی وہ ابتدائی کوشش کے مقام پر بھی نہیں پہنچا بلکہ اس کا نفس رسماً یا عادتاً یا ریاء اس سے نمازیں پڑھوا رہا ہے ۔ اور اگر اسے ابھی عمل کی توفیق نہیں ملی میگر اس کے دل میں نیک تحریکیں پیدا ہو رہی ہیں تو سمجھے کہ فرشتے اس سے تعلق پیدا کر رہے ہیں پس تم اپنی نمازوں ، روزوں وغیرہ سے اپنی حالت کا اندازہ نہ کرو۔ بلکہ تمہارے دل میں جو کچھ ہوا اس کو دیکھیو ۔ جن قوموں کے دل خراب ہو جاتے ہیں وہ خواہ ظاہرہ طور پر کتنی ہی مضبوط ہوں گھر و وہ پڑتی ہیں۔ ہیں ۔ روس کو ہی دیکھ لو کتنی بڑی حکومت تھی ۔ لیکن حضرت مسیح موعود کی اس کے متعلق چونکہ پیشگوئی تھی اس لئے ان لوگوں کے دل خراب ہو گئے اور اس سے ساری سلطنت خراب ہو گئی ۔ حالانکہ ظاہری خرابی سے معاً پہلے وہ ایک زبر دست حکومت سمجھی جارہی تھی۔ تو کسی انسان کو اپنے متعلقی نمازوں ، روزوں اور زکوٰۃ سے فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ میں نے نیکی اور تقویٰ میں کسی قدر ترقی کی ہے بلکہ اپنے قلب کے اندر جو چیز ہے اس سے اپنی نیکی اور تقویٰ کو دیکھے ۔ اگر اس کے دل میں نیک تحریکیں بڑھ رہی ہوں تو ہوں تو سمجھ لے کہ کہ ملائکہ کا پر تو جو اس پر پڑتا ہے وہ بڑھ رہا ہے خواہ ابھی تک بعض گناہ اس سے نہ چھوٹے ہوں۔ اور اگر برائی کی تحریکیں اس کے قلب میں بڑھ رہی ہوں، تو خواہ اچھا کام کر رہا ہو یہی خیال کرے کہ اس کا شیطان سے تعلق بڑھ رہا ہے ۔ پس نمازیں زیادہ پڑھنا یا روز سے رکھنا ایمان کی علامات نہیں ۔ تمہیں اپنے قلوب کو دیکھنا اور ان کا مطالعہ کرنا چاہئے لوگوں کا کام تمہارے متعلق یہ ہے کہ تمہارے اعمال کا مطالعہ کریں لیکن تمہارا کام اپنے متعلق یہ ہے کہ