انوارالعلوم (جلد 5) — Page 538
انوار العلوم جلد ۵ ۵۳۸ علان گفته الله دروازہ پر کہ جس سے خیالات کا اثر اندر آتا ہے فرشتے متعین ہوتے ہیں جو انہیں برے اثرات - محفوظ کر دیتے ہیں۔شیطان سے کیا مراد ہے سے اب میں یہ بتاتا ہوں کہ شریعت نے انسان کے ذاتی بڑے خیالات کو بھی شیطانی قرار دیا ہے اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ شیطان کا وجود ہی نہیں ہے کیونکہ میرا یہ بھی یقین ہے کہ ہر نیک تحریک در حقیقت انسان کے قلب سے ہی پیدا ہوتی ہے۔حالانکہ میں ملائکہ اور ان کے ثرات کا قائل ہوں۔پس میرے قول کا یہ مطلب ہے کہ شریعیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خیالات کو بھی شریعیت نے شیطانی قرار دیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب انسان کے دل میں بدخیال آئے تو شیطان اس پر اپنا پر تو ڈال کر اس کو بڑھا دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا۔ایک وضوء کا شیطان ہے اس کا نام و کہان ہے۔اس کا کام یہ ہے کہ پانی زیادہ کرواتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا اس جگہ یہ مطلب نہیں کہ واقع میں کوئی وضوء کا شیطان ہے۔بلکہ آپ نے دل کے خطرہ کا نام شیطان رکھا ہے۔شیطان کا کام تو خدا تعالیٰ سے دُور کرنا ہے پانی سے اس کا تعلق نہیں۔اور ولمان کے معنے ہیں ایسا متفکر کہ جسے ایک خیال کے سوا اور کوئی خیال ہی نہ رہے اور اسی حالت کا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولهان نامی شیطان رکھا ہے۔اس حالت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کو کچھ ہوش ہی نہیں رہتی اور بجائے اس کے کہ وضوء کے وقت اسے نماز کی طرف توجہ ہو۔وہ اپنے خیالات میں محو ہو کر پانی بہاتا چلا جاتا ہے۔ورنہ فی الواقع شیطان اس کو پانی گرانے کے لئے نہیں کہتا کیونکہ شیطان کو زیادہ یا کم پانی گرانے سے کیا تعلق۔اسی طرح برسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کا بھی ایک شیطان ہے جو نماز میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی جب میں نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو مختلف خیالات میرے دل میں آنے لگ جاتے ہیں آپ نے فرمایا یہ شیطان ہے اور اس کا نام خنزب ہے۔در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے شیطان کا نام خنزب بتایا ہے۔یہ مرکب لفظ ہے خئی اور اذیب سے۔خنٹی کے معنے نوائب الدھر کے ہیں۔اور اذیب کے معنے داہیہ کے ہیں مه ترمذی ابواب الطهارة باب كراهية الاسراف في الوضوء مسلم كتاب السلام باب التعوذ من الشيطان الوسوسة في الصلوة