انوارالعلوم (جلد 5) — Page 530
انوار العلوم جلد ۵ ۵۳۰ ملاكمة الله بیان کر رہاہوں اور شخص اسے سمجھ سکتا ہے۔مگر ہر ایک ایک جیسا نہیں سمجھ سکتا اور نہ ہر ایک پر ایک جیسا اثر ہوتا ہے۔پھر قلب کا اثر بھی بات پر جا پڑتا ہے۔دیکھو سورہ فاتحہ ہی ہے۔کوئی شخص اسے پڑھتا ہے تو اس کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔اور کوئی پڑھتا ہے تو اس کے چہرہ پر بشاشت آجاتی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ جس کے قلب کے اندر رونے کا مادہ ہوتا ہے اور وہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اسے پڑھ کر سمجھتا ہے خدا ہی ہے جو میری مصیبت کو دور کر سکتا ہے اور اس سے اس کی چیخین نکل جاتی ہیں۔لیکن دوسرا شخص جو کامیا بیوں کو اپنے گرد و پیش پاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا ہی میری حفاظت کرنے والا ہے کون ہے جو مجھے تباہ کر سکے۔اس سے اس کے پڑھنے سے چہرہ پر بشاشت آجاتی ہے۔تو ایک ہی بات کا قلب کی حالت کے لحاظ سے مختلف اثر ہوتا ہے۔پیں وہ کلام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ ان بشری قومی سے مل کر جو آپ کے اندر تھے اور نتیجہ اور مطلب پیدا کرتا اور جبرائیل کے اندر چونکہ اور قوی تھے اس لئے ان کے ساتھ مل کر اور نتیجہ پیدا ہوتا۔اور یہ صاف بات ہے کہ مختلف چیزوں کی ترکیب سے مختلف نتائج پیدا ہوا کرتے ہیں۔مثلاً چھونا ہے اس پر انٹیں رکھ دی جائیں تو کچھ نہیں ہو گا لیکن اگر پانی ڈالا جائے تو آگ پیدا ہو جائے گی کیونکہ چونا اور پانی کے ملنے سے یہ نتیجہ پیدا ہوا کرتا ہے۔تو باوجود اس کے کہ جو کچھ رسول کریم صل اللہ علیہ وسم پر جبرائیل کے ذریعہ سے اترا اسے جبرائیل سمجھتے تھے۔مگر جو قومی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھے وہ ان کو حاصل نہ تھے اس لئے ایسا نہ سمجھ سکتے تھے جیسا رسول کریم سمجھتے اور اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بھی فضیلت حاصل ہے۔اس جگہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ہر انسان تنگ سے افضل نہیں ہوتا۔خاص انسان خاص لا نکہ سے افضل ہوتے ہیں اور جو عام مومن ہوتے ہیں وہ عام ملائکہ سے افضل ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی ملائکہ کی نسبت وسیع ذمہ داریاں ہیں اور انسان تو ایسا ہے کہ اسے جہنم میں بھی ڈالا جا سکے گا لیکن ملائکہ کے لئے یہ نہیں ہے۔وہ مجبور ہیں کہ بدی نہ کریں۔مگر انسان دونوں طرف جا سکتا ہے بدی بھی کر سکتا ہے اور نیکی بھی اس لئے وہ انسان جو نیکی کرتے ہیں خواہ وہ معمولی درجہ کے مومن ہوں وہ عام ملائکہ پر فضیلت رکھتے ہیں۔