انوارالعلوم (جلد 5) — Page 524
۵۲۴ علا نكتة الله کہ ملائکہ نے اس کو سجدہ کرنے کی تحریک کی ہو مگر اس نے اس کو نہ مانا۔نتیجہ کیا ہوا ؟ کافر ہو گیا۔تو ملائکہ کی تحریکیں ماننا بھی فرض ہیں اور وہ نیک ہی ہوتی ہیں۔اب یکی یہ بتا چکا ہوں کہ ملائکہ کیا چیز ہیں۔ان کا کیا کام ہے ؟ اور یہ بھی کہ ان پر ایمان لانا کیوں ضروری ہے ؟ ان کی کیا ضرورت ہے ؟ پھر ان پر جو اعتراض پڑتے ہیں ان کے جواب بھی دے چکا ہوں۔مگر ان کے متعلق اور بھی سوال پیدا ہوتے ہیں اور میں اب ان سوالوں کا جواب دیتا ہوں۔مانکہ اور ان کا تعلق کتنی اقسام کا ہوتا ہے ؟ اب میں یہ بیان کرتا ہوں کہ ملائکہ کا فیضان کتنی اقسام کا ہے ؟ لیکن چونکہ ملائکہ کے فیضان کے ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ شیطان کا انسان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق ہے کیونکہ یہ دونوں ہستیاں بالمقابل ہیں اس لئے میں ساتھ ہی اس کا بھی ذکر کروں گا۔یاد رکھنا چاہئے کہ ملائکہ کے اثرات تین اقسام کے ہیں اور شیطان کے اثرات بھی تین قسم کے ہیں ملک کا پہلا تعلق انسان سے وہ ہوتا ہے جسے لمہ ملکیہ کہتے ہیں یعنی فرشتے کی تحریک۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے کہ رستہ چلتے چلتے انسان بھولنے لگ جاتا ہے کہ ایک آدمی اسے کہہ دیتا ہے سڑک نہیں وہ ہے جس پر تمہیں جانا چاہئے۔اسی طرح ملائکہ کی طرف سے تحریک ہو جاتی ہے اور یہ تعلق ایسا ہی ہوتا ہے جیسا ایک اجنبی کا اجنبی سے ہوتا ہے۔اس سے اوپر جب تعلق بڑھتا ہے تو ایسا ہوتا ہے جیسا سفر میں دوست کا دوست سے ہوتا ہے جو دوست کسی رستے کا واقف ہوتا ہے جدھر وہ جاتا ہے اُدھر ہی اس کا ساتھی بھی جاتا ہے۔یہ نہیں کہ ہر قدم پر اس سے پوچھتا ہے کہ کدھر جا رہے ہو ؟ اسی طرح اس مرتبہ میں جب فرشتہ ساتھ ہو جاتا ہے تو انسان اور فرشتہ دونوں ایک ہی طرف چلتے ہیں اس کو تائید روح القدس کہتے ہیں اور یہ تائید نزول کے لفظ کے ساتھ تعبیر کی جاتی ہے جب کسی کو نزولِ روح القدس کا مقام حاصل ہو جاتا ہے تو یہ تعلق دائمی ہوتا ہے۔مگر پہلا یعنی منہ نلکی کا تعلق عارضی ہوتا ہے۔اس سے بڑھ کر تیسرا درجہ ہوتا ہے جس میں فرشتہ اور انسان کا تعلق غلام و آقا کا ہو جاتا ہے یعنی فرشته محض ساتھی نہیں ہوتا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کی اطاعت اور خدمت کا بھی حکم