انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 523

انوار العلوم جلد ۵ ۵۲۳ ملائكة الله ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ ممکن ہے کہ خلیفہ کسی امر کے متعلق جو رائے دے اس سے کسی کو اتفاق نہ ہو چنانچہ حضرت ابو بکر نے ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تھا یہ کہا تھا کہ ان کو غلام بنا لینا جائزہ ہے کیونکہ وہ مرتد اور کافر ہیں۔ مگر اس کے متعلق حضرت عمر ینہ اخیر تک کہتے رہے کافرہیں۔ کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں لیکن اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تو اس سے اختلاف کرنا ان کے لئے جائز نہ تھا ۔ انبیاء سے چونکہ اصول کا تعلق ہوتا ہے اس لئے ان سے اختلاف کرنا ہرگز جائز نہیں ہوتا ۔ ہاں تفصیلات میں خلفاء سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اب بھی کسی علی مسئلہ میں اختلاف ہو جاتا ہے ۔ اور پہلے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ خلفاء کو دوسروں کی بات ماننی پڑی ہے اور بعض دفعہ خلفاء کی بات خلفاء کی بات دوسروں کو ماننی پڑی ہے چنانچہ حضرت عمرض اور صحابہ میں یہ مسئلہ اختلافی رہا کہ جنبی خروج ماء سے ہوتا ہے یا محض صحبت سے ۔ غرض خلفاء سے اس قسم کی باتوں میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن انبیاء سے نہیں کیا جا سکتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی التحیات میں انگلی اُٹھانے کے متعلق اختلاف کرے گا تو بھی کافر ہو جائے گا۔ لیکن مجددین اور خلفاء ایسے نہیں ہوتے کہ مسائل میں بھی اگر ان سے اختلاف ہو جائے تو انسان کافر ہو جائے مگر انبیاء کی چھوٹی سے چھوٹی بات سے اختلاف کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے ان کی کوئی بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے ۔ یہی کہنا فرض ہے کہ جو نبی کہتا ہے وہی سچ ہے۔ غرض ملائکہ پر ایمان لانے کے یہ معنے ہیں کہ ملائکہ جو کہتے ہیں وہ صحیح ہے ۔ اس لئے یہی حکم دیا کہ ملائکہ جو کہیں اس کو مانو یعنی ایمان لاؤ۔ اور اس کا ثبوت قرآن سے ملتا ہے کہ ملائکہ جو کہتے ہیں وہ صحیح ہوتا ہے ۔ وہ قرآن کریم میں مثال کے ذریعہ بنایا گیا ہے کہ ملائکہ کو نہ ماننے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے ؟ خدا تعالیٰ میں فرماتا ہے :۔ : - وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَئِكَةِ اسْجُدُوا لِأَدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبِي وَاسْتَكْبَرَهُ وَكَانَ مِنَ الكفرين ) ( البقرة : ٣٥) اللہ نے جب ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا۔ لیکن ابلیس نے انکار کر دیا اور کافر ہو گیا۔ اب یہ قرآن سے پتہ لگتا ہے کہ ابلیس ملک نہ تھا بلکہ جن تھا اور ملائکہ کا غیر تھا ۔ اور غیر کوکس طرح معلوم ہو گیا کہ آدم کو سجدہ کرنا چاہئے کیونکہ حکم تو ملائکہ کو ہی دیا گیا ۔ اسے اسی طرح معلوم ہوسکتا تھا