انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 522

الوار العلوم جلد ۵ ۵۲۲ لَهَا وَ اللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ه (البقرة : ۲۵۷) جو شخص طاغوت کا انکار کرتا ہے اور اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیتا ہے کہ جو ٹوٹتا ہی نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔طاغوت شیطان کو کہتے ہیں۔اب اگر انکار کے معنے کسی شئے کی ذات کے انکار ہی لئے جاویں تو اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہلاکت سے وہی شخص بچتا ہے جو شیطان کے وجود کا انکار کرے اور اللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار حالانکہ یعنی سراسر غلط ہیں۔کیونکہ قرآن کریم صاف طور پر خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی اقرار کرتا ہے اور شیطان کے وجود کا بھی اقرار کرتا ہے کہیں اقرار سے اور ایمان سے اس آیت میں یہی مراد ہے کہ شیطان کی باتوں کو رد کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی باتوں کو مانتا ہے اب انگریسی معنی ایمان کے ملائکہ کے متعلق کئے جائیں تو ان پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہوگا کہ انکی تحریکات کو ما نا کرو۔اسی طرح کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے یہ معنے ہوں گے کہ جو احکام الہی کتابوں میں ہوں ان کو مانور جو کچھ رسول تم کو حکم دیں ان کو مانو۔اور قیامت پر ایمان لانے کے یہ معنے ہوئے کہ اس کا خیال کر کے بری باتوں سے بچو۔تو خدا، ملائکہ ، کتب اور رسولوں پر ایمان لانے سے مرادان کے احکام ماننا ہے۔کوئی کہ سکتا ہے کہ اگر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے تو پھر ان چاروں پر ایمان لانے کا کیوں حکم دیا گیا ہے۔ان کے علاوہ مجدد بھی ہوتے ہیں اور انبیاء کے خلفاء بھی ہوتے ہیں ان کے احکام ماننا بھی ایمان میں داخل ہونا چاہئے اور ان کا انکار کفر ہونا چاہیئے لیکن جب ان کا انکار کفر نہیں تو پھر باقیوں کا انکار کیوں کفر ہے ؟ یہ ٹھیک ہے کہ خلفاء اور مجددین بھی اچھی باتیں بتاتے ہیں لیکن خداتعالی ، نبیوں ،ملائکہ اور کتب کی باتوں اور ان کی باتوں میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ ایمانیات میں وہ داخل ہیں جن کی کسی چھوٹی سے چھوٹی بات سے اختلاف کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی یہی کہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے وقت پاؤں دھونے کا جو حکم دیا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ کافر ہو جائے گا مگر خلیفہ سے تفصیلات میں اختلاف ہو سکتا ہے۔مثلاً خلیفہ ایک آیت کے جو معنے سمجھتا ہے وہ دوسرے شخص کی سمجھ میں نہ آئیں اور وہ ان کو نہ مانے تو اس کے لئے جائز ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو کہے کہ فلاں آیت کے آپ نے جو معنے کئے ہیں میں ان کو نہیں مانتا تو کافر ہو جائے گا۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں سے ایک شوشہ بھی رد کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔گو خلفاء کے احکام ماننا ضروری ہوتے ہیں لیکن ان کی آراء سے متفق