انوارالعلوم (جلد 5) — Page 512
انوار العلوم جلد ۵ ۵۱۲ ملائكة الله (۴) ثبوت یہ ہے جو روزانہ مشاہدوں میں آتا ہے ۔ اور اگر روزانہ نہیں تو ایک عرصہ کے بعد ہر شخص کے مشاہدہ میں آتا ہے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ اس کے قلب پر ایک ایسی بات اثر کرتی ہے کے میں آتا ہے کہ بارہا جس کا اس کے خیالات سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ بلکہ بعض اوقات اس کے خیالات کے اکٹ وہ تحریک ہوتی ہے اور اس کے کرنے کے لئے انسان ایسا مجبور ہوتا ہے کہ چھوڑ نہیں سکتا۔ ہر انسان پر کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آتا ہے حتی کہ کفار پر بھی آتا ہے۔ دہریوں پر بھی آتا ہے ۔ چنانچہ دہریوں کے ایسے وا واقعات لکھتے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں ہمارے دل میں ایسی تحریک پیدا ہوئی جو مجبور کر کے ایک جگہ لے گئی اور وہاں دکھا کہ لاش پڑی ہے ۔ اس قسم کی تحریک کے محرک کون ہوتے ہیں ؟ ملائکہ۔ تو اس قسم کی شہادت مادی لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ اور روحانی لوگوں کی تو بہت ہی شہادتیں اس کے متعلق ملتی ہیں کہ یکلخت دل میں ایک تحریک ہوتی ہے جس کا خیالات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اس پر عمل کرنا ہی پڑتا ہے یہ تحریک ملائکہ کی طرف سے ہی ہوتی ہے اور یہ ان کی ہستی کا ثبوت ہے۔ ملائکہ کی ضرورت یہ تو میں نے ملائکہ کے ثبوت کے عقلی دلائل بتائے ہیں ۔ اب یہ بتاتا ہوں کہ ملائکہ کی ضرورت کیسا ہے ؟ ضرورت بھی کسی چیز کا ثبوت ہوتی ہے۔ کیونکہ جس چیز کی ضرورت ثابت ہو جائے قانون قدرت کے وسیع مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہوتی بھی ضرور ہے۔ پس کسی چیز کی ضرورت بھی اس کے ہونے ار است و جای قانون کا ثبوت ہے مگر یہ ثبوت بالواسطہ ہوتا ہے بلا واسطہ نہیں ہوتا اس لئے میں ملائکہ کی ضرورت بتاتا ہوں ۔ پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ روحانی اور جسمانی نظام میں مشابہت ہوتی ہے اور ہونی چاہئے ۔ روحانی امور کو جسمانی پر قیاس کر لیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں سلسلے ایک جیسے چلتے ہیں سوائے اس کے کہ جہاں ان کا ایک جیسا نہ چلنا ضروری ہوتا ہے ۔ اور جسمانی معاملات میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب کا ایک وسیع سلسلہ چلتا ہے اور مخفی در مخفی اسباب چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ نہایت باریک گیسوں تک پہنچتا ہے بلکہ کہتے ہیں کہ ان سے بھی آگے چل کر مادہ طاقتوں میں منتقل ہو جاتا ہے اور انہی طاقتوں کے منبعوں کا نام ہم ملائکہ رکھتے ہیں ۔