انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 510

انوار العلوم جلد 01- ملائكة الله اسی طرح باقی سارا انتظام ہے۔کئی سال ہوئے ایک ستارہ نمودار ہوا تھا جس کے متعلق خیال کیا گیا تھا کہ وہ زمین سے ٹکرائے گا اور ساری دُنیا تباہ ہو جائے گی مگر کچھ عرصہ کے بعد اس کا رخ بدل گیا اور کچھ بھی نہ ہوا۔کئی دفعہ ایسا ہوا ہے اور یہی خیال کیا جاتا رہا ہے کہ ستارہ کے زمین کے ساتھ ٹکرانے سے زمین تباہ ہو جائے گی۔جو ایسے ٹھوس ستارے ہوتے ہیں کہ ان کے ٹکڑانے سے زمین تباہ ہو جاتی ہے وہ جب اس حد پر پہنچتے ہیں کہ زمین سے ٹکرائیں تو اس وقت اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔اور یہ عجیب بات ہے کہ دمدار ستارے جن کے ٹکرانے سے کوئی نقصان نہیں ہو سکتا وہ زمین کے پاس آجاتے ہیں اور ان کی دم زمین سے ٹکرا جاتی ہے۔مگر وہ ایسے باریک ذروں سے بنی ہوئی ہے کہ دنیا کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔ایک دفعہ یورپ کے سائنس دانوں نے اعلان کیا تھا کہ اب ایک ستارہ زمین کے پاس سے گزرے گا جس سے دُنیا تباہ ہو جائے گی۔اس پر کئی لوگ خود کشی کر کے مرگئے کہ نہ معلوم اس وقت کسی قدر دکھ اور تکلیف سے مریں۔مگر وہ ستارہ آیا اور گزر گیا اس سے کچھ نقصان نہ ہوا۔اس پر نیت دانوں نے بتایا کہ اس کے ذرات اتنے باریک تھے کہ جب وہ سورج کے مقابلہ میں آیا تو اس کی نوم سُورج کی شعاؤں کے دباؤ سے ہٹ کر دائیں سے بائیں طرف ہو گئی۔اس قسم کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتب قانون ہے جس کے ماتحت سب کام ہو رہا ہے اگر ایک بالا رادہ ہستی پیچھے نہ ہوتی تو پھر یہ کام کس طرح چلتا ؟ اب سوال یہ ہے کہ وہ بالا رادہ بستی کون ہے؟ اس کا فیصلہ خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ملائکہ ہیں۔نہیں ہر ایک چیز پر لانکہ کا قبضہ ہے اور ان کے ذریعہ یہ انتظام چل رہا ہے۔مجھے ذاتی طور پر اس بات کا تجربہ ہے کہ ہر چیز پر ملائکہ کا قبضہ ہے اور ان کے ارادے کے ماتحت وہ چیز کام کرتی ہے۔ایک دفعہ مجھے بخار ہوا۔ڈاکٹر نے دوائیں دیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ایک دن چودھری ظفر اللہ خان صاحب آئے ان کے ساتھ ایک غیر احمدی بھی تھا۔ان کو میں نے اپنے پاس بلا لیا۔ان کے آنے سے پہلے مجھے غنودگی آئی اور ایک مچھر میرے سامنے آیا اور کہا آج تپ ٹوٹ جائے گا۔جب ڈاکٹر صاحب اور چودھری صاحب اور ان کا غیر احمدی دوست اور بعض اور احباب آئے تو میں نے ان کو وہ کشف بتا دیا۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد جب ڈاکٹر صاحب نے تھرمامیٹر لگا کر دیکھا تو اس وقت تپ نہیں تھا۔دراصل وہ مچھر نہیں بولا تھا بلکہ اس کی طرف سے وہ فرشتہ بولا تھا جس کا مچھر پر قبضہ تھا تو ہر ایک