انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 509

انوار العلوم جلد ۵ ۵۰۹ انسان ملائکہ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا البتہ ان کے مدارج کی ترقی کے لئے دکھا کر سکتا ہے چنانچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔کہ جب حضرت ابراہیم کے پاس فرشتے آئے اور آکر سلام کہا تو حضرت ابراہیم نے بھی آگے سے ان کو جواب دیا۔اگر ملائکہ کو اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچ سکتا تو وہ سلام کا جواب نہ دیتے کیونکہ سلام سلامتی کی دُعا ہے اور جس کے مدارج میں ترقی نہ ہو سکتی ہو اس کے حق میں دُعا فضول ہے۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو کہا کہ جبرائیل نے تمہیں السلام علیکم کہا ہے۔اس پر حضرت عائشہ نے کہا وعلیکم السلام اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا (ابن ماجه کتاب الادب باب رد السلام ) اسی طرح جب تک تشہد نہ اُترا تھا صحابہ کہا کرتے تھے خدا تعالیٰ پر سلام، جبرائیل پر سلام فلاں فلاں پر سلام۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا پر سلام کہنے سے منع فرما با سین جبرائیل پر سلام کہنے سے منع نہ کیا۔اگر جبرائیں تو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوتا تو آپ منع کر دیتے۔اس سے زیادہ ملائکہ کو فائدہ پہنچانے کا اور کوئی پتہ نہیں لگتا۔ملائکہ کے وجود کا ثبوت اب میں اس امر کا ثبوت پیش کرتا ہوں کہ ملائکہ واقع میں ہیں۔پہلے تو قرآن سے یہ بتایا گیا ہے کہ میں اب میں دلائل سے ثابت کرتا ہوں کہ کس طرح معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ ہیں ؟ (1) ہم دیکھتے ہیں کہ تمام عالم میں ایک قانون جاری ہے اور وہ ایسا زیر دست قانون ہے کہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور وہ قانون ایک ارادہ کے ماتحت ہے۔مثلاً آسمان میں ہم ستاروں کی گردش دیکھتے ہیں۔ان میں ایسی حکمت پائی جاتی ہے کہ ان کا انتظام بلاوجہ اور بغیر کسی ارادہ کے نہیں ہو سکتا۔پھر یہی زمین ہے جو آباد ہے۔اسٹرا نو مرز نے اس کو معمولی سیارہ ثابت کرنے کے لئے بڑا زور مارا ہے۔اور انہوں نے بڑی کوشش کی ہے کہ اس کو چھوٹا سا سیارہ ثابت کریں۔مگر کہتے ہیں کہ یہ مرکز میں ہے۔ہم کہتے ہیں اسے کیوں مرکز میں جگہ ملی ہے ؟ بات اصل میں یہ ہے کہ چونکہ بنی نوع انسان اس پر لیتے ہیں۔اس لئے ضروری تھا کہ سارے تارے اس پر اثر ڈالتے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا تھا کہ یہ مرکز میں ہوتی۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ ارادہ کے ماتحت بنائی گئی ہے یوسی نہیں بنائی گئی۔سنن نسائی کتاب الافتتاح باب كيف التشهد الأول