انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 492

انوار العلوم جلد ۵ ۴۹۲ ان کا اندازہ کوئی انسان کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ جیسا کہ نبیوں کے کلام سے ثابت ہوتا ہے ہر کام کا علیحدہ فرشتہ ہوتا ہے ۔ پانچویں باتے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملائکہ ایسی مخلوق ہے جو بدی کر ہی نہیں سکتی۔ انسان میں تو یہ مادہ ہے کہ انبیاء حتی کہ خدا کا بھی انکار کر دیتا ہے ۔ اور ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خدا کو گالیاں دیتے ہیں۔ مگر قرآن سے پتہ لگتا ہے کہ ملائکہ ایسی مخلوق ہے کہ اس میں بدی کی قوت ہی نہیں ہے اور انسان کی نسبت ان کا دائرہ عمل محدود ہوتا ہے۔ انسان حدود کو توڑ دیتا ہے ۔ مگر ملائکہ کے لئے جو حدود مقرر ہیں ان کو نہیں توڑ سکتے ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :۔ ه 6 لَا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ) ( التحريم :) کر ملا کہ اللہ کے حکم کونہیں توڑتے اور وہ ہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے ۔ چھٹی باتے یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ ملائکہ خدا کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ بلکہ ان میں ایسا مادہ ہے کہ خدا کے احکام کو پورے طور پر بجا لاتے ہیں کسی حکم کی خلاف ورزی کرنا اور بات ہوتی ہے اور اس کو پورے طور پر نہ کر سکنا اور بات مثلاً ایک کمزور شخص کو کہا جائے کہ فلاں چیز اٹھاؤ لیکن وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اُٹھا نہ سکے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے حکم کی خلاف ورزی کی ۔ ہاں ایک ایسا شخص جو اُٹھانے کی طاقت رکھتا ہو وہ اگر اُٹھانے سے انکار کر دے تو یہ خلاف ورزی ہو گی۔ فرشتوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے ان میں ایسی قابلیت ہوتی ہے کہ جو کام انہیں کرنے کو کہا جاتا ہے اسے وہ من حیث الافراد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یعنی سب میں اس کے کرنے جاتا کی طاقت موجود ہوتی ہے۔ انسانوں کی طرح نہیں ہوتے کہ بعض آدمیوں میں حکم پورا کرنے کی طاقت ہوتی ہے اور بعض میں نہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ بعض وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ) (النحل : ۵۱) انہیں جو حکم دیا جاتا ہے اسے بجالاتے ہیں۔ انسان کی یہ حالت نہیں ہوتی ۔ وہ بعض اوقات چاہتا ہے کہ ایک کام کرے لیکن کر نہیں سکتا ۔ مثلاً وہ چاہتا ہے کہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے لیکن وہ کہ ہو کر نماز بیمار ن وہ ہو تو ایسا نہیں کر سکتا۔ ساتو یہ باتے ملائکہ کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ ارد گرد کے اثرات کو قبول نہیں کرتے باقی مخلوق زبر دست سے زبردست ہو تو بھی اثر قبول کرتی ہے ۔ ہاں یہ ہوتا ہے کہ بعض اثرات کو قبول کرتی ہے اور بعض کو نہیں بھی قبول کرتی ۔ مثلاً انبیاء ہیں یہ نیکی کے اثر کو قبول کرتے ہیں۔ یالڑائی