انوارالعلوم (جلد 5) — Page 490
انوار العلوم جلد ۵ ۴۹۰ ملا نكتة الله جب الہام ہوتا ہے تو ہزاروں فرشتے اس حرکت سے جو الہام کے الفاظ کے بیان سے پیدا ہوتی ہے پیدا ہوتے ہیں مگر پھر ساتھ ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔مگر زرتشتی فرشتوں کو غیر فانی ہستی مانتے ہیں۔دوسری بات ملائکہ کے متعلق یہ یاد رکھنی چاہئے کہ یہ ایسی روحانی مخلوق ہیں کہ بندہ کو ان آنکھوں سے اپنے اصلی جسم میں نظر نہیں آسکتے۔اور اگر ان آنکھوں سے نظر آئیں گے تو اپنے اصلی وجود کے سوا غیر وجود میں ہوں گے۔گویا فرشتوں کو دیکھنے کے لئے یا تو یہ ظاہری آنکھیں نہیں ہوں گی بلکہ روحانی آنکھوں کی ضرورت ہوگی اور اگر ان آنکھوں سے دیکھا جائے گا تو فرشتے اپنے اصلی جسم میں نہیں ہوں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- ولو جَعَلْنَهُ مَلَكًا تَجَعَلْنَهُ رَجُلًا وَللَبَسُنَا عَلَيْهِمْ مَّا يَلْبِسُونَ (الانعام (1) یہ لوگ کہتے ہیں کہ فرشتہ کیوں نہیں اترتا۔لیکن اگر فرشتہ آجائے تو آدمی کی شکل میں ہی آئیگا۔تب یہ دیکھ سکیں گے۔اور جب انسان کی شکل میں آئے گا تو پھر بات مشتبہ رہے گی کہ یہ فرشتہ ہے یا آدمی ہے اور جو شبہ یہ اب پیدا کر رہے ہیں پھر بھی قائم رہے گا کہ یہ کلام خدا کا نہیں بلکہ انسانی بناوٹ ہے۔پس فرشتہ تو ہم تب بھیجتے جب اس کا کوئی فائدہ بھی ہوتا لیکن چونکہ ان آنکھوں سے لوگ فرشتے کو دیکھ نہیں سکتے اور اگر دیکھیں تو انسان کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں اور اس پر وہ پھر اعتراض کریں گے اس لئے فرشتہ نازل نہیں کیا جاتا۔۔پس فرشتوں کا وجود نہانی ہے ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔میری باتے ان کے متعلق یہ یاد رکھنی چاہئے کہ وہ ایسی مخلوق ہیں کہ نہ نر ہیں نہ مادہ اس بات کا پتہ اس آیت سے لگتا ہے جو میں نے پہلے پڑھی ہے کہ أَمْ خَلَقْنَا الْمَلَئِكَةَ إِنَانًا وَهُمْ شَهِدُونَ الصفت : ۱۵۱) میاں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ تو مرد ہیں۔بلکہ یہ کہا ہے کہ یہ کہتے ہیں فرشتے لڑکیاں ہیں۔ان کو کیا پتہ ہے کہ وہ کیا ہیں ؟ کیا یہ اس وقت موجود تھے ؟ جب خدا نے فرشتوں کو بنایا۔خدا تعالیٰ نے فرشتوں کے مادہ ہونے سے تو انکار کر دیا مگر ساتھ یہ نہیں فرمایا کہ وہ نر ہیں پس ان کو نر یا مادہ کہنا غلط ہے۔یہ تو مادہ چیزوں میں ہوتا ہے۔روحانی چیزوں میں نر و مادہ نہیں ہوتا۔نہیں کہ مرد کی روح نہ ہو اور عورت کی مادہ۔نر اور مادہ تو ظرف کی حالت ہے ان میں جو چیز ہے وہ ایک ہی ہے۔چوتھی باتے ملائکہ کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کے تین درجے ہیں۔وہ سارے کے سارے ایک قسم کے نہیں ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :-