انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 489

انوار العلوم جلد ۵ ۴۸۹ ملائكة الله۔فَقَالَ المَلُوا الَّذِيْنَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا هُذَا إِلا بَشَر مثْلُكُمْ يُرِيدُ أن تَتَفَضَلَ مَليكُمْ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لاَنْزَلَ مَلَئِكَةَ : مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي أَبَاتِنَا الْأَوَّلِينَ (المؤمنون : ۲۵ ) یعنی حضرت نوح کے منکروں کے سرگروہوں نے کہا۔شخص تو تمہارے جیسا ایک آدمی ہے جو تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور اگر خدا کا منشاء ہوتا تو وہ فرشتے اتارتا ہم نے تو ایسی بات پہلے بزرگوں کے حق میں نہیں سنی (یعنے ان میں رسول آیا کرتے تھے۔) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہ اعتراض کیا گیا ہے :- لومَا تَأْتِينَا بِالمَلَئِكَةِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصُّدِقِينَ (الحجرام ) کیوں نہیں تو ہمارے پاس فرشتے لاتا اگر تو سچا ہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے لوگوں میں بھی ملائکہ کا خیال پایا جاتا تھا۔اس مختصر سے ذکر کے بعد میں اسلامی تعلیم کی طرف آتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ اسلام نے ملائکہ کے متعلق کیا تعلیم دی ہے ؟ ملائکہ کی حقیقت پہلی بات یہ ہے کہ ملائکہ مخلوق ہیں یا نہیں ؟ کیونکہ جو درجہ ان کو دیا گیا ہے اس سے خیال پیدا ہوتا ہے کہ فرشتے مخلوق نہیں۔چنانچہ اسی وجہ سے عیسائیوں کو دھوکا لگا ہے اور انہوں نے سمجھ دیا ہے کہ روح القدس مخلوق نہیں بلکہ خدا کا حصہ ہے اور اس کو بھی خدا بنا دیا ہے لیکن اسلام کہتا ہے کہ فرشتوں کا غیر مخلوق ہونا جھوٹ ہے۔وہ مخلوق ہیں۔چنانچہ فرشتوں کے مخلوق ہونے کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔(101: امُ خَلَقْنَا الْمَلَئِكَةَ إِنَّا نَا وَهُمْ شَهِدُونَ ) ( الصفت : ١٥١ ) کیا جب ملا کہ پیدا کئے گئے اس وقت یہ وہاں موجود تھے ؟ کہ کہتے ہیں فرشتے لڑکیاں ہیں ؟ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو پیدا کیا ہے۔ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ فنا ہوں گے یا نہیں ؟ جس طرح ارواح انسانی محفوظ رکھی جائیں گی اسی طرح ملائکہ بھی فنا نہیں کئے جائیں گے یا سب فنا ہو جائیں گے یا بعض فنا ہو جائیں گے بعض باقی رکھے جائیں گے۔یہودیوں کا خیال ہے کہ