انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 488

انوار العلوم جلد ۵ ۸۸ ملائكة الله کا تعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں سورج کہا گیا۔ ہے۔ حضرت مسیح موعود پر جو کفر کے فتوے لگے ان میں ایک بات یہ بھی لکھی گئی تھی کہ آپ فرشتوں کا انکار کرتے ہیں ۔ حضرت صاحب نے توضیح مرام اور آئینہ کمالات اسلام میں فرشتوں کے متعلق بحث کی ہے اور قرآن کریم سے آپ نے ثابت کیا ہے کہ ملائکہ کا تعلق اجرام سماوی سے ہے اور ان کے ذریعہ سے ان کے اثرات دنیا میں پڑتے ہیں جس پر علماء نے یہ شبہ پیدا کر کے کہ آپ فرشتوں کے منکر ہیں اور ستاروں کی تاثیرات کے قائل ہیں آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے ۔ یہ ستاروں کا مضمون ایک علیحد مضمون ہے ہیں اس وقت اس کے متعلق کچھ بیان کرنا نہیں چاہتا کیونکہ اس طرح بحث کہیں کی کہیں نکل جائے گی ۔ سر دست میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سب مذاہب میں فرشتوں کا خیال پایا جاتا ہے اور اسلام میں بھی جہاں سینکڑوں شرک کی باتوں کا رد کیا گیا ہے وہاں فرشتوں کے عقیدہ کو قائم کیا گیا ہے اور اس قدر زور کے ساتھ قائم کیا گیا ہے کہ اگر ان کو نہ مانا جائے تو انسان کا فر ہو جاتا ہے۔ اور اسلام کا سب مذاہب پر یہ احسان ہے کہ جس طرح نبیوں پر جس قدر اعتراض پڑتے ہیں ان کو اسلام نے دور کیا ہے اسی طرح فرشتوں پر جس قدر اعتراض پڑتے ہیں ان کو بھی دور کیا ہے ۔ زرتشتیوں اور یہودیوں کا خیال ہے کہ فرشتے بھی شیطان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں۔ اور ان ہی کی تقلید میں مسلمانوں نے ہاروت اور ماروت دو فرشتوں کے متعلق یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں شیطان کے پھندے میں پھنس جانے کی وجہ سے اس وقت تک بابل کے کسی کنویں میں اُلٹ لڑکا یا ہوا ہے (تفسير ابن كثير سورة البقرة زير آيت واتبعوا ما تتلوا الشيطين على ملك سليمن، ليكن قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے ایک ایسی مخلوق ہی جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں کرتے چنانچہ آتا ہے ۔ لا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحريم ) اب جبکہ یہ علوم ہوگیا کہ فرشتوں کا خیال ایک ایسی بات ہے جس کے متعلق سب قوموں کا اتفاق ہے تو ہر ایک سنجیدہ آدمی کو چاہئے کہ سوچے۔ یہ کوئی بہت ہی بڑی اور اہم بات ہوگئی تھی سب مذاہب کی کتب میں ان کا ذکر ہے اور قرآن سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اتنا پرانا خیال ہے کہ حضرت نوح کے زمانہ میں بھی پایا جاتا تھا۔ حضرت نوح کے مخالفین کا قول اللہ تعالیٰ نقل فرماتا ہے کہ