انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 485

انوار العلوم جلد ۔ ۴۸۵ ملا مظاہر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ فرشتے ہزاروں سال کی ترقی کے بعد اپنے موجودہ درجہ تک پہنچے ہیں۔ اور وہ فرشتوں کی نسبت خیال کرتے ہیں کہ وہ لاثانی ہوتی ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں لیکن ہمیں کی خیال کرتےہیں کہ وہ موت ہیں جو سے میں نفع رساں ہیں ۔ وہ جواہر نہیں کہلا سکتے کیونکہ یہ ان کی ہتک ہو گی ۔ وہ پھول نہیں جو درختوں پر سکے ہوگی ۔ وہ جو پر شکے ہوں بلکہ وہ ستاروں کی طرح ہیں جو سورج کے گرد گھوم رہے ہوں وہ خدا کے لئے زینت نہیں بلکہ وہ کی کے رہے اس کی ذات کے مظہر ہیں ۔ → زرتشتی کتب میں سب سے بڑے فرشتہ کا نام وہ ہو ما ناح لکھا ہے ۔ اسے دہشتنا ما ناح بھی کہتے ہیں یعنی سب سے بہتر فرشتہ۔ دو ہو ما ناح کے معنے نیک دل یا اصلاح کرنے والے فرشتہ کے ہیں ۔ اور عبرانی اور عربی میں جبر کے معنے بھی اصلاح کے ہیں۔ پس دونوں ناموں کی مطابقت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو ہو ما ناح در حقیقت جبرائیل کا ہی نام ہے ۔ زرتشتی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دماغ کو روشنی اس فرشتہ کی وساطت سے آتی ہے ۔ بلکہ زرتشت نے خدا تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ نور اور الہام کی روشنی سے وہ دو ہو ماناح کو دیکھے اور آخر وہ فرشتہ اسے ملا - تمام نیک تحریکیں اس فرشتہ کی طرف سے آتی ہیں اور جو لوگ اس فرشتہ کی تحریکات کو قبول نہیں کرتے یہ فرشتہ ان کو چھوڑ دیتا ہے ۔ کے دوسرا فرشته زرتشتیوں کے نزدیک آتا ہے۔ یعنی تقویٰ کا فرشتہ ہے ۔ ظاہری اشیاء میں سے آگ آشا کے سپر د ہے۔ کیونکہ نوکر آگ سے پیدا ہوتا ہے۔ اور تقویٰ نور سے پیدا ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرشتہ میکائیل ہے کیونکہ میکائیل دنیاوی ترقی کا فرشتہ ہے اور دنیاوی ترقی کا نشان آگ ہے۔ ان دونوں فرشتوں کے علاوہ وہ پانچ بڑے فرشتے اور مانتے ہیں اور چھوٹے فرشتوں کا تو کچھ شمار ہی نہیں ۔ اور بڑے فرشتوں کے سپرد تمام انتظام ہے اور ان کا خیال ہے کہ فرشتے ہمیشہ انسان کے دل پر نیک اثر ڈالتے ہیں تا کہ شیطان اس میں نہ گھس سکے ۔ اور کہتے ہیں پیدائش خدا کی طرف سے ہے اور موت شیطان کی طرف سے ۔ اس وجہ سے وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ چونکہ پیدائش خدا کی طرف سے ہوتی ہے اس لئے انسان نیک ہی پیدا ہوتا ہے اور فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں مگر شیطان اس کو بُرائی سکھاتا ہے ۔ اگر انسان اس کی بات مان لے تو فرشتے اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کہ اب یہ شیطان کا بندہ ہو گیا ہے ۔ پھر ان کا خیال ہے کہ خدا اور شیطان کا مقابلہ ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ ایرانی النسل ایک نبی