انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 479

انوار العلوم جلد ۵ ۴۷۹ ملائكة الله کا کورا آیا تھا۔قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لیکن چونکہ مثال ہے۔اس لئے بیان کرتا ہوں :- آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں منافق آتے اور باہر جاکر ایک دوسرے پوچھتے ماذا قال أنفا ( محمد : ۱) ابھی انہوں نے کیا بات کسی تھی۔وہ گو مجلس میں آتے لیکن سنتے نہ تھے کہ کیا باتیں ہوتی ہیں ؟ اس لئے ایک دوسرے سے پوچھتے۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسان کسی ایسی مجلس میں بیٹھتا ہے جس میں دین کی باتیں ہوتی ہیں تو شیطان اس کی توجہ کو کہیں کا کہیں لے جاتا ہے تاکہ انسان ان باتوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور ٹھوکر کھا جائے۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو مجلس میں تو بیٹھتے ہیں لیکن جو بات سنائی جائے اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اور بعض اوقات جب ان سے پوچھا جائے کہ کیا کہا گیا ہے ؟ تو کہ دیتے کہ مزا تو بڑا آیا تھا مگر یاد نہیں رہا کہ کیا کہا گیا تھا؟ ایسے لوگوں کو مزا اس لئے نہیں آتا کہ وہ توجہ سے سُن رہے تھے بلکہ اس لئے آتا ہے کہ دوسرے واہ واہ کہ رہے اور مزا اُٹھا رہے تھے۔میں جو کچھ کہا جائے اسے غور سے سنو اور توجہ سے سنو اور جن کے پاس لکھنے کا سامان ہے اور وہ لکھنے کے عادی ہیں وہ لکھتے بھی جائیں۔ہاں جو لکھنے کے عادی نہ ہوں وہ نہ لکھیں تا ایسا نہ ہو کہ لکھنے لگیں تو بھول جائیں جن میں لکھنے کی مشتق ہے وہ لکھتے جائیں۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض دفعہ بیماری یا کسی وجہ سے تقریریں جلدی شائع نہیں ہو سکتیں اور وہ نقوش جو یہاں سے دل پر ہوتے ہیں مٹ جاتے ہیں لیکن جنہوں نے خود لکھا ہوگا وہ اپنے لکھے کو دیکھ کر اپنی یاد تازہ کر سکس گے۔پچھلے سال ایک ایسے اہم مسئلہ پر تقریر ہوئی تھی جو ایمانیات میں داخل ہے مگر ایسے اسباب وگئے کہ وہ تقریر جلدی نہ چھپ سکی اور اب چھپی ہے۔اب اسے جو پڑھے گا اسے نیا مضمون معلوم ہوگا مگر جنہوں نے نوٹ لکھے ہوں گے انہوں نے بہت فائدہ اُٹھایا ہو گا۔مضمون کی اہمیت آج کا جو مضمون ہے وہ بھی بہت اہم ہے اور اسلام کے بنیادی اصول اور ایمانیات میں سے ہے اور نہایت باریک مضمون ہے۔تقدیر کا مسئلہ مشکل تھا مگر اس طرف عام و خاص کی توجہ چونکہ لگی رہتی ہے۔اس کا سمجھنا اس توجہ اور لگاؤ کی وجہ سے انسان تھا۔مگر پیشہ وہ ہے کہ باوجود ایمانیات میں سے ہونے کے اس کی طرف لوگوں کو توجہ