انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 472

انوار العلوم جلد و ۴۷۲ اصلاح نفس اور وہ یہ کہ ایک دفعہ آپ صفیں سیدھی کر رہے تھے تو مجھے آپ کی گئی گئی تھی میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا لے لو صحابی نہ نے کہا اس وقت میرا جسم ننگا تھا۔آپ بھی جسم نگا کریں۔یہ باتیں سُن کر صحابہ پر کیسے اثرات ہوئے ہوں گے ؟ وہ چاہتے ہوں گے کہ اس شخص کا سر اڑا دیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا اٹھا دیا۔یہ دیکھ کر اس صحابی نے آپ کے جسم مبارک کو بوسہ دیا اور کہا یہی بدلا ہے۔وہ جانتا تھا کہ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم آنکھوں سے اوتھل ہونے والا ہے اور پھر کہاں مل سکے گا ؟ اس موقع سے فائدہ اٹھالوں۔(سیرت ابن ہشام دعربی جلد انت ) یہ وہ محبت کا جذبہ تھا جو صحابہ میں پیدا ہو گیا تھا۔تم بھی محبت کا ایسا ہی جذبہ پیدا کرو اور اب جس وقت یہاں سے جاؤ تو بدلے ہوئے جاؤ۔وہ کون سا وقت آئے گا جب ہماری جماعت کے لوگ خدا کی راہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی پرواہ نہ کریں گے۔تمہارے دل میں کسی دنیاوی طاقت کا خوف اور ڈر قطعاً نہیں ہونا چاہئے تم حکام کی اطاعت کرو مگر ان کے آگے تمہاری گرد میں نہ جھکیں۔ان کا ادب اور احترام ہو مگر اس لئے کہ خدا کا حکم ہے نہ کہ ڈر کی وجہ سے۔ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کرد گر کسی لالچ اور طمع کی وجہ سے نہیں تمہیں جو کچھ مانگنا ہے خدا سے مانگو اور کسی سے تمہیں کچھ نہیں مانگنا چاہئے اور نہ خدا کے سوا کسی اور کا دیا ہوا تمہارے کسی کام آسکتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ چیز جو تمہیں مل سکتی ہے اور جو میرے ذہن میں ہے میری طاقت بیان سے باہر ہے۔اگر تم بزدلیوں ، کاہلیوں اور غفلتوں کو چھوڑ دو تو تمہیں وہ نعمتیں مل سکتی ہیں جو تمہارے خیال میں بھی نہیں آسکتیں اور تم اُن کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے اور تم تو اس کا بھی اندازہ نہیں کر سکتے جو میر سے ذہن میں ہے کیونکہ تمہارا دل اتنا وسیع نہیں۔چونکہ خدا نے مجھ سے کام لینا ہے اس لئے اس نے میرا دل بہت وسیع بنایا ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ کیا نعمتیں ہیں جو تمہیں مل سکتی ہیں۔پس تم اس وقت کی جو تمہیں ملا ہوا ہے قدر کرد کبھی بڑے کے بعد چھوٹے لوگ میسر ہوتے ہیں اگر ان کی بھی قدر نہ کی جائے تو پھر ایک وقت آتا ہے جب کہ چھوٹے بھی نہیں رہتے۔اب ایسے لوگ ہیں جو تمہیں دین سکھا سکتے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ان کی قدر نہ کرو اور وہ بھی نہ رہیں تو تمہیں حسرت اور افسوس سے ہاتھ ملنے پڑیں۔کوئی احمدی اکیلا نہیں میں اپنے اندر غیر پیدا کرو اور بھی کوئی اس بات سے نڈر ہے کہ کسی جگہ وہ اکیلا احمدی ہے۔کوئی احمدی اکیلا نہیں۔ایک وہ ہے اور ایک اسکے ساتھ اور ہے جو خدا ہے اور جسکے ساتھ خدا ہو وہ ساری دنیا کی پر کیتے جتنی بھی پرواہ نہیں کرتا