انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 467

انوار العلوم جلد ۵ ۴۶۷ اصلاح نفس ہوئے ہوں گے اور میں بھی خوش ہوا ہوں ۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی تو دیکھو کہ یہ کن لوگوں کے لئے ہیں ؟ اُن کے لئے جو مؤمن ہوں گے۔ جو مومن ہوں گیت یکی نے آپ لوگوں کو یہ نعمتیں اس لئے سُنائی ہیں کہ آپ دیکھیں آپ کے نفس میں کوئی ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے یہ تمہیں ملنی چاہئیں ۔ ان کو دیکھو اور سوچو کہ کیا ان کو حاصل کرنے کی تم میں اہلیت اور قابلیت ہے ؟ اور ان کو اور ان کو پانے کے تم مستحق ہو گئے ہو ؟ معمولی سے معمولی انعام بھی کسی کو اس وقت تک نہیں ملتا جب تک کہ وہ اپنے آپ کو اس کے قابل نہیں بنا لیتا ۔ پھر کیا تم اتنے بڑے انعامات کو پانے کے مستحقی ہو ؟ یہ تو وہ انعام ہیں اور اتنے بڑے انعام ہیں کہ اگر کسی بادشاہ کے سامنے بھی ان تو رکھا جائے تو وہ بھی انہیں دیکھ کر حیران ہو جائے اور ہمارے مخالفین تو جانتے ہی نہیں کہ یہ انعام مل سکتے ہیں۔ مگر خدا نے ہم سے تو ان کا وعدہ کیا ہے ۔ لیکن سوال یہی ہے کہ آیا تم ان کے مستحق بھی ہو گئے ہو ؟ اگر نہیں تو پھر تمہیں کون سی خوشی ہے ؟ پھر کیا تم نے ان انعامات کے حاصل کرنے کے قابل اپنے آپ کو بنانے کی کوشش کی ہے ؟ اگر تم نے ان کو حاصل کرنے کا استحقاق ہی پیدا نہیں کیا اور نہ اس کے لئے کوشش کی تو پھر یاد رکھو کہ تمہارے لئے نہیں بلکہ ان کے لئے ہے جو اپنے آپ کو ان کا مستحق بنائیں گے ۔ تم اپنے نفسوں میں غور کرو اور دیکھو کہ کیا جس طرح تم چندہ دینے میں بہت لیست و لعل کرتے ہو اگر اسی طرح سرکاری ٹیکس دینے والے کریں تو ان کو کوئی انعام ملے گا ؟ انعام نہیں بلکہ ان سے دینے والے کریں توان کو ملے تو جیل خانے بھرے جائیں گے ۔ ہمارے سیکرٹری اور کا رکن تو چندہ کے لئے تمہارے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں اور تم کوئی پرواہ نہیں کرتے ۔ رتم پھر اسی طرح نماز ، روزہ ، زکوۃ ، حج اور دوسرے احکام کو دیکھو کہ آیا تم ان کو ایسے رنگ میں پورا کرتے ہو کہ تمہیں انعام مل سکے ؟ کیا تم خلافت کی اطاعت اسی طرح کرتے ہو جس طرح سرکار کی ؟ یا خلافت کی طرف سے جو آدمی مقرر ہیں ان کے ایسے ہی احکام مانتے ہو جیسے حکام کے ؟ بیشک اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے اور اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ چھوٹے درجہ کے مومن کو بھی اوپر لے جائے گا ۔ مگر رحم بھی حکمت کے ماتحت ہوگا ۔ تم اس حکمت کے ماتحت تو اپنے آپ کو لاؤ تم اپنے اندر کم از کم اتنا مادہ تو پیدا کرو کہ اگر تم سے کوئی غلطی ہو جائے اور اس پر علامت ہو تو اسے برداشت کر سکو۔ مثلاً جو نماز با جماعت کے لئے نہیں آتا اسے جب آنے