انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 464

انوار العلوم جلد ۵ الفائِزُونَ (المومنون : ۱۰۴ تا ۱۱۳) اصلاح نفس ان آیات میں خدا تعالیٰ نے عذاب کا عجیب نقشہ کھینچا ہے، فرماتا ہے۔مومنوں کے دشمن جب قیامت کے دن پیش کئے جائیں گے۔تو ہم کہیں گے لے جاؤ ان کو جہنم ہیں۔اس وقت وہ کہیں گے ہم سے غلطی ہوگئی۔یہ بخشی جائے۔اور ہمارا یہ قصور معاف کیا جائے۔ایسا دردناک عذاب دیکھ کر وہ کیوں نہ گھبر ائیں گے ؟ کہ فِي جَهَنَّمَ خَلِدُونَ تَلْفَعُ وجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ یا تو ان کی یہ حالت تھی۔کہ کہتے تھے ہم ہی حق پر ہیں یا کہیں گے کُنَّا قَدُ ما ضالین ہم تو بڑے گمراہ تھے۔اس وقت وہ کہیں گے۔ایک دفعہ اس سے نکال دیجئے۔پھر اگر کریں گے تو نہ بخشتا۔خدا تعالیٰ نے اس کا عجیب جواب دیا ہے اور اس سے ظاہر ہے کہ مومنوں کو رکھ دینے والوں کو کس قدر سزا دی جائے گی۔فرمانا ہے۔قَالَ احْسَنُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ جاؤ اور چلے جاؤ بلکہ جسم میں جاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو۔میں تمہاری بات نہیں سنتا۔کیوں رحیم و کریم خدا ان کی بات نہیں سنتا ؟ اس لئے کہ فرماتا ہے۔إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَاوَانتَ خَيْرُ الرَّحِمِينَ ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمُ سِخْرِيَّا حَتَّى السَوْكُمْ ذِكرِى وَكُنتُم مِنْهُم تَضْحَكُونَ کہ کچھ میرے بندے تھے۔جو کہتے تھے۔ہم ایمان لائے اپنے رب پر اور اپنے رب سے بخشش مانگتے تھے۔تم ان میرے پیاروں سے منسی اور مخول کرتے تھے۔کس قدر غیرت اور محبت ہے۔فرماتا ہے تم نے جو میرے بندوں کا دل دُکھایا تو میں تمہاری بات کیوں سنوں ؟ ملے انعام کے کر نہ ہونے کی خواہش پھر انسان چاہتا ہے کہ جو امام نے وہ کم نہ ہو اور کم چھینا نہ جائے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُهُ افَفِي الْجَنَّةِ خَلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَارَبُّكَ عَطَاءٌ غَيْرَ مَجُذُوذٍ (هود: ١٠٩) ۱۰۹) جو تمہیں نعمت ملے گی وہ کبھی کٹے گی نہیں بلکہ اسمیں تم بڑھتے ہی جاؤ گے۔پھر اس عطا کی خداتعالی تشریح کرتا ہے۔کہ غیر مجذوذ ہے۔اس کی کوئی حد بندی ہی نہیں جو کچھ ان کے دل میں خواہش پیدا ہوگی وہی پوری ہو جائے گی۔اور جو کچھ وہ چاہیں گے وہی انہیں مل جائے گا۔کوئی کہے کہ انسان کی خواہش ہی کس قدر ہو سکتی ہے ؟ خواہ وہ کس قدر بھی خواہش کرے تھوڑی ہی ہوگی۔اس