انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 455

انوار العلوم جلد ۵ ۴۵۵ اصلاح نفس شخص اسے خود دیتا ہے تو وہ اس کے لئے خاص طور پر دعا کرتا ہے یہ مخفی اور ظاہرہ طور پر صدقہ دینا پھر آگے صدقے دو قسم کے ہیں۔ایک منفی جس کا۔۔لینے اور دینے والے کے سوا کسی کو پتہ نہیں لگتا۔اور بعض تو ایسے مخفی صدقے ہوتے ہیں کہ ان میں لینے والے کو بھی پتہ نہیں لگتا کہ کس نے مجھے دیا ہے ؟ وہ یہی کہ سکتا ہے کہ اندھیرے میں دینے والے کا بھلا ہو۔یہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ بعض لوگوں میں یہ کمزوری ہوتی ہے کہ جب وہ کسی کو صدقہ دیتے ہیں تو اس پر احسان جتلانے لگتے ہیں۔شریعت نے خفیہ صدقہ رکھ کر انہیں شق کرائی ہے کہ جب وہ اس طرح دے کر کی۔پر احسان نہیں جتلا سکیں گے تو ظاہر دینے میں بھی نہ جتلائیں گے۔اور ظاہری صدقہ اس لئے رکھا ہے کہ دوسروں کو بھی دینے کی تحریں ہو اور دوسرے بھی ایسا ہی کریں۔یہ صدقے کے فوائد ہیں۔چندہ دینے کا فائدہ تیسری چیز چندہ ہے۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ بعض ایسے سلمان ہوتے ہیں جو دین کی خدمت میں اتنا وقت نہیں لگا سکتے جتنا لگانا ان کے ذمہ ہوتا ہے۔وہ اور کاموں میں لگے رہتے ہیں ان کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے چندہ رکھ دیا گیا ہے۔مثلاً ایک زمیندار جو بہت زیادہ وقت دنیاوی دھندوں میں لگا دیتا ہے اور بہت تھوڑا وقت خدا کے لئے صرف کرتا ہے چندہ کے ذریعہ اسکی اس کمی کو پورا کیا جاتا ہے۔پس چندہ وہ قیمت ہے جو انسان اس کوتاہی کی ادا کرتا ہے جو اس سے ہوتی ہے۔مگریہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے پورا حق ادا نہیں ہوتا۔اس لئے کوئی یہ نہ سمجھے کہ چندہ دے کر وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو گیا۔اس سے صرف کی پوری ہوتی ہے۔دیکھیو اگر کوئی فرض نہ پڑھے اور نفل پڑھ لے تو کیا نماز کی فرضیت سے آزاد ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔اسی طرح جو چندہ دیتا ہے وہ یہ نہ سمجھے کہ عملی طور پر دین کی خدمت کرنے سے آزاد ہو گیا۔یہ مال کے ذریعہ دوسروں کو جسمانی فائدہ۔پہنچانا ہے۔گر ایصال خیر کا دوسرا پہلو روحانی بھی ہے۔یہ بھی دو قسم کا ہے۔ایک علمی فائدہ پہنچانا عملی فائدہ پہنچانا اور دوسرا روحانی یعنی ایک تو وجو دین سے علی نہیں رکھتا اس سے وارے ورے ہی رہتا ہے اور ایک روحانی جو دینی فائدہ ہے۔بیوی بچوں کو دین سکھانا پہلی شق کی سب سے ضروری بات بیوی بچوں کو دین سکھانا اور تعلیم دینا ہے اور یہ نہایت ضروری ہے کیونکہ اب اگر ہم اپنی اولاد