انوارالعلوم (جلد 5) — Page 454
انوار العلوم جلد ۵ ۴۵۴ اصلاح نفس سے ایسے لوگوں کو دیا جاتا ہے۔افراد کے چندہ سے ان کا کام نہیں چل سکتا۔پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے کا احسان اٹھانا پسند نہیں کر سکتے۔وہ ٹھو کے مر جائیں گے مگر یہ گوارا نہیں کریں گے کہ زید کے سامنے جائیں اور اپنی ضروریات کے لئے اس سے کچھ حاصل کریں۔چونکہ ایسی طبیعت کئی لوگوں کی خدا نے بنائی ہوتی ہے اور ان کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے اس لئے شریعت نے یہ رکھا ہے کہ حکومت امراء سے لے اور ایسے لوگوں کو دے تاکہ وہ طبائع جو کسی کا احسان نہیں اُٹھانا چاہتیں وہ اس طرح مدد پائیں۔صدقہ کے فوائد دوسری چیز صدقہ ہے۔اس کے بھی کئی فائدے ہیں۔ایک تو یہ کہ اس کے ذریعہ طبیعت میں ہمدردی کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔زکوۃ دینے والے میں یہ مادہ نہیں پیدا ہو سکتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ تو میں نے حکومت کو ٹیکس دیا ہے۔اس کے سامنے لینے کے لئے مسکین نہیں آتا بلکہ حکومت آتی ہے اس لئے شریعیت نے صدقہ رکھا ہے کہ اس کے سامنے سیکن آئے تاکہ اس میں دوسروں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔اسی وجہ سے شریعت نے صدقہ دینے کا حکم علیحدہ دیا ہے ، تاکہ انسان پر محبتانہ اور ہمدردانہ اثر پڑے۔دوسرا فائدہ اس کا یہ ہے کہ شریعت چاہتی ہے کہ لوگوں کے آپس کے تعلقات مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں اور یہ صاف بات ہے کہ جو انسان کسی کو کچھ دیتا ہے اور جو لیتا ہے ان کا آپس میں انس ہو جاتا ہے۔وہ لوگ جو کسی بچہ کو پالتے ہیں ان کو جب کوئی تکلیف پہنچے تو وہ بچہ ایسا ہی درد محسوس کرتا ہے جیسا اپنا بچہ لیکن اگر غریب بچوں کو حکومت پالے اور روپے لوگ دیں تو ان میں لوگوں کے ساتھ ایسی محبت نہیں پیدا ہوسکتی ہیں دوسرا فائدہ صدقہ کا یہ ہے کہ لوگوں میں محبت اور ہمدردی کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔تیسرا فائدہ صدقہ کا یہ ہے کہ اس سے خدا تعالیٰ کے قرب کا موقع ملتا ہے۔وہ شخص جو بندھا ہوا کچھ دیتا ہے اس میں ایسی خوشی اور رغبت نہیں پیدا ہوتی جیسی خود بخود دینے والے میں پیدا ہوتی ہے اس لئے شریعیت نے زکواۃ کے علاوہ صدقہ دینا ضروری رکھا ہے کہ جب کوئی اس طرح مسکین کی مدد کرے گا اور اس سے خوشی اور فرحت محسوس کریگا تو اس کے دل میں اُمنگ پیدا ہوگی کہ پھر بھی خرچ کروں۔چوتھا فائدہ صدقہ کا یہ ہے جو زکواۃ دینے میں اس قدر حاصل نہیں ہوتا کہ مسکین کی دُعا ملتی ہے۔زکوۃ میں مسکین نہیں جانتا کہ مجھے حیدر آباد سے بھیجی ہوئی زکوٰۃ سے دیا گیا ہے یا لاہور کی بھیجی ہوئی ہے۔وہ تو یہی کہے گا کہ ناظر بیت المال کا بھلا ہو جس نے مجھے دیا ہے۔مگر جب کوئی