انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 452

انوار العلوم جلد ۵ ۴۵۲ اصلاح نفس زکوٰۃ کی فرضیت زکواۃ توایسی ضروری چیز ہے کہ جو نہیں دیتا وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جب کچھ لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔ لیکن ١٠٣ ) نُخُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ (التوبة : (۱۰۳) اس میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ تو ہے ۔ اب جب کہ آپ نہیں تھے تو اور کون لے سکتا ہے ؟ نادانوں نے یہ نہ سمجھا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہو گا جو لے گا۔ ن جهالت۔ الت سے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم زکوۃ نہیں دیں گے۔ ادھر تو لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور ادھر فساد ہو گیا قریباً سارا عرب مرتد ہو گیا اور کئی مدعی نبوت کھڑے ہو گئے ۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ نعوذ باللہ اسلام تباہ ہونے لگا ہے۔ ایسے نازک وقت میں صحابہ نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ آپ ان لوگوں سے جنہوں نے زکواۃ دینے سے انکار کر دیا ہے فی الحال نرمی سے کام لیں ۔ حضرت عمرہ جن کو بہت بہادر کہا جاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ گو میں کتنا ہی جری ہوں مگر ابو بکر نہ جتنا نہیں کیونکہ یں نے بھی اس وقت یہی کہا کہ ان سے نرمی کی جائے ۔ پہلے کافروں کو زیر کر لیں پھر ان کی اصلاح کرلیں گے۔ لیکن ابوبکر نے کہا ابن قحافہ کی کیا حیثیت ہے ؟ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے حکم کو بدلائے میں تو ان سے اس وقت تک لڑوں گا جب تک کہ یہ لوگ پوری طرح زکوۃ نہ دیں اور اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اونٹ باندھنے کی ایک رسی جو دیتے تھے وہ بھی ادا نہ کر دیں ۔ دبخاري كتاب الزكوة باب وجوب الزكوة و مسند احمد بن خلیل جلدات) اس وقت صحابہ کو پتہ لگا کہ خدا کا بنایا ہوا خلیفہ کس قدر جرات اور دلیری رکھتا ہے ؟ آخر حضرت ابو بکر نے نے ان کو زیر کیا اور ان سے زکوۃ لے کر چھوڑی ۔ مگر بہت لوگ ہیں جو زکوۃ نہیں دیتے جب انہیں کہا جائے تو کہتے ہیں اچھا یہ بھی فرض ہے؟ پھر ایک سال یونہی گزار دیتے ہیں گویا انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں ۔ دوسرے سال پھر سنتے ہیں مگر ایسا ہی سنتے ہیں گویا نہیں سنا۔ مگر اس طرح وہ اس فرض کی ادائیگی سے بچ نہیں سکتے۔ جو شخص زکوۃ کو چھوڑتا ہے اس سے وہی معاملہ جائز ہو جاتا ہے جو کفار سے کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ حضرت عمر نے جب حضرت ابو بکری کو زکوۃ نہ دینے والوں کے متعلق کہا یہ سلمان ہیں ان سے کافروں والا معاملہ نہ کیا جائے۔ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ نہیں۔ ان سے کافروں والا ہی معاملہ کیا جائے گا۔ چنانچہ ان کو پکڑ کر غلام بنایا گیا ۔ زکوۃ کے متعلق ہم نے ایک رسالہ شائع کیا ہوا ہے ۔ تم اس کو پڑھو اور جس پر زکوۃ واجب ہے