انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 442

انوار العلوم جلد ۵ ۴۴۲ اصلاح نفس تھا اسے پورا کرناضروری تھا۔ لیکن میں کہا ہں کیا اگر کسی نے مندر کے ثبت کے آگے سجدہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہو تو اس کے لئے پورا کرنا ضروری ہوگا ؟ اگر نہیں تو پھر تمہارے اس وعدہ کے پورا کرنے کا کیا مطلب؟ بہت لوگ ان وعدوں کو تو پورا نہیں کرتے جو خدا تعالیٰ سے انہوں نے کئے ہوئے ہیں اور فرائض کو بڑی دلیری سے توڑتے ہیں مگر وہ بات جسے ان کا دل چاہے اس کے لئے وعدہ کا عذر گھڑیتے ہیں۔ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے ایک لڑکا ریوڑیاں کھا رہا تھا اور بڑی حرص سے کھا رہا تھا میں نے اس کو کہا اس طرح کیوں کھاتے ہو ؟ اس نے کہا مجھے ریوڑیاں بہت پسند ہیں کیونکہ حضرت صاحب بھی کھایا کرتے تھے ۔ میں نے کہا حضرت صاحب تو کونین بھی کھایا کرتے تھے کیا تم بھی کھاتے ہو ؟ اس کا اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ تو اکثر لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جس بات کے کرنے کو ان کا نفس چاہتا ہے ۔ اس کے کئی بہانے گھڑ لیتے ہیں اور جس کو نہ چاہے وہ خواہ کیسی ضروری بات ہو اس کو نہیں کرتے۔ تمہیں غیر احمدیوں کو لڑکی دینے کے معاملہ میں اپنے نفس کی ہرگز اطاعت نہ کرنی چاہئے بلکہ ہر حال میں حضرت صاحب کے حکم کو ماننا چاہیے ۔ چھٹی بات غیر احمدیوں کے جنازے پڑھنا ہے ۔ ایسے غیر احمدی کا جنازہ لوگ ہیں جو جنازے پڑھتے ہیں یہ ایک خطرناک غلطی ہے ۔ میں کہتا ہوں اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ تمہارے جنازہ پڑھنے سے مردہ بخشا جائے گا تو تمہیں معذور سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا تم خیال کرتے ہو کہ تمہارے جنازہ پڑھنے سے وہ غیر احمدی بخشا جاتا ہے؟ یا تم اس بات کے ذمہ دار ہو کہ وہ جہنم سے بچ جائے اگر نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم کس غیر احمدی ن کی وجہ ہے م غیرا کا جنازہ پڑھتے ہو ؟ کیا یہی نہیں کہ تم رشتہ داروں یا تعلق والوں کا منہ رکھتے ہو اور کہتے ہو اگر جنازہ نہ پڑھا تو ان کو کیا منہ دکھائیں گے ؟ حالانکہ وہی منہ دکھانا قابل عزت و فخر ہو سکتا ہے جو بے عیب ہو۔ مگر جو کافر کا جنازہ پڑھتا ہے ۔ اور خدا کے نبی کو گالیاں دینے اور جھٹلانے والے کا جنازہ پڑھتا ہے اس کا منہ تو چھپانے کے قابل ہے نہ کہ دکھانے کے قابل ۔ تم منہ دکھانے کے قابل اسی وقت ہو سکتے ہو جب خدا کے دین کی محبت تمہارے اندر ہو۔ اگر تمہاری ایسی حالت ہو اور میناروں پر چڑھ کر بھی اپنے منہ دکھاؤ تو بھی جائز ہے ۔ مگر جب تم خدا کا کوئی حکم توڑتے ہو تو تمہیں غاروں میں گھس کر چھپنا چاہئے ۔ کیونکہ تم علی الاعلان سینکڑوں آدمیوں میں جا کر عملی طور یہ لی طور پر کہتے ہو کہ مرزا صاحب کے متعلق جو عقیدہ ہے وہ غلط ہے پس اس فعل سے بچو۔ یہ تو ترک شہر کی باتیں تھیں جو میں نے بیان کی ہیں ۔ اب دوسرا حصہ لیتا ہوں جو اعمال خیر