انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 441

انوار العلوم جلد ۵ ۴۴۱ اصلاح نفس قوم کا ہوتا ہے ؟ مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تمہاری قوم تو احمدیت ہو گئی۔ شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو۔ ورنہ اب تو تمہاری قوم تمہاری گوت تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو ۔ مومن کا تو یہ کام ہوتا ہے کہ جب حق آجائے تو باطل کو چھوڑ دیتا ہے ۔ اس کے متعلق میں ایک مثال سناتا ہوں۔ حضرت عمرؓ کو شعروں کا بہت شوق تھا۔ طبائع کو بعض امور سے کچھ مناسبت ہوتی ہے میری طبیعت کو بھی اشعار سے مناسبت ہے ۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے ایک علاقہ کے گورنر کو لکھا کہ اس علاقہ کے بڑے بڑے شاعروں کے کلام بھجواؤ ۔ اس علاقہ میں دو بڑے شاعر تھے ۔ ایک کا نام بید تھا یہ عرب کے بہت بڑے شاعر تھے اور بڑھاپے کی آخر عمر میں اسلام لائے اور اسلام میں بھی بہت لمبی عمر پائی ۔ اور دوسرا ایک اور شاعر تھا ۔ گورنر نے ان کو بلا کر کہا کہ قصید سے بنا کر دو کچھ دنوں کے بعد ایک نے تو بنا کر دے دیا مگر لبید جو بہت اعلیٰ درجہ کے شاعر تھے جب ان کو کہا گیا کہ قصیدہ سناؤ تو انہوں نے اس طرح پڑھنا شروع کیا۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِهِ القَهُ ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ * هُدًى لِلْمُتَّقِينَ هُ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّارَزَقْنَهُمُ يُنْفِقُونَ (البقرة : (نام) گورنر نے کہا یہ تو قرآن ہے۔ شعر سناؤ انہوں نے پھر یہی آیات پڑھیں ۔ تیسری بار پھر کہا تو بھی بہی پڑھا اور کہا جب سے یہ کلام آیا ہے ۔ میں شعر کہنا بھول گیا ہوں (الاصابة في تمييز الصحابة جلد ۳ صفحه ۳۲۶ مطبوعہ ۱۳۲۸ و بیروت) وہ اپنے زمانہ میں سب سے بڑے شاعر تھے مگر انہوں نے کہ دیا کہ جب سے قرآن سنا ہے شعر کہنا چھوڑ دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اس زمانہ میں شعر فخر ومباہات کے لئے کہے جاتے تھے دین کے لئے بہت کم کیے جاتے تھے اس لئے انہوں نے چھوڑ دیئے ۔ جس طرح وہاں قرآن کریم کے آنے پر شعر کہنے چھوڑ دیئے گئے تھے اسی طرح اب حضرت صاحب کے آنے پر سب پہلے رشتے چھوڑ دو اور اسی کو اپنا رشتہ دار سمجھو جو حضرت صاحب کے ذریعہ تمہارا بھائی بنا ہے۔ حضرت صاحب نے بہت صاف اور واضح طور پر فرمایا ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا گناہ ہے ہاں لینا جائز ہے۔ پس جب حضرت صاحب لڑکی دینے کو گناہ قرار دیتے ہیں تو پھر تم کس طرح کوگناہ قرار ہیںتو پھر تم دیتے ہو ؟ مگر ایسے ہیں جو دیتے ہیں اور عجیب عجیب عذر پیش کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے وعدہ کیا ہوا