انوارالعلوم (جلد 5) — Page 430
انوار العلوم جلد ۵ ۴۳۰ اصلاح نفس بینی سے بچو پہلے میں ان دوسری قسم کے کاموں میں سے بعض کو یتا ہوں یعنی پہلے میں ترک شہر کو لیتا ہوں ۔ اس میں سے پہلی بات بدظنی ہے ۔ باطنی سے قرآن کریم نے منع فرمایا ہے اور اس سے اتنے فساد پیدا ہوتے ہیں جن کی کوئی حد نہیں ۔ مگر اس زمانہ میں سے اتنے فساد کی بطنی کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ ہر شخص دل میں خواہ مخواہ ہی خیال کر لیتا ہے کہ یوں ہو گا ۔ اخبار میں کوئی خبر پڑھتے ہیں تو خیال کر لیتے ہیں کہ گورنمنٹ کا اس سے یہ مطلب ہو گا یا فلاں شخص کی اس سے یہ غرض ہو گی ۔ اگر کسی کا کوئی دوست ہو اور اسے کہے کہ ہمارے گھر چلو تو کہیں گے اس میں اس کا کوئی فائدہ ہوگا ۔ اور اگر وہ نہ کہے تو کہیں گے آج کل کون کسی کو پوچھتا ہے ؟ غرضیکہ ہر بات میں بدظنی کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی زیادہ چندہ دے تو کہیں گے ریاء کے لئے دیتا ہے اور اگر تھوڑا دے تو کہیں گے بخیل ہے خدا کے لئے دینا جانتا ہی نہیں۔ اگر کوئی نماز پڑھے تو کہیں گے صوفی بنتا ہے اور اگر نہ پڑھے تو کہیں گے کافر ہے ۔ اگر کوئی کسی سے ہمدردی کرتا ہے تو ا کہیں گے اس کی کوئی غرض ہوگی اور اگر نہ کرے تو کہیں گے لوگوں کا خون سفید ہو گیا ہے ۔ غرض کہ جو بھی کوئی کام کرے اس کا بد پہلو ہی نکالیں گے اور باطنی ہی کریں گے۔ حالانکہ یہ بات بہت گندی ہے کیونکہ اگر سب لوگ دینی پر اتر آئی تو نیکی قائم ہی نہیں رہ سکتی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ اِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ اكْذَبُ الْحَدِيثِ (بخاری کتاب الوصايا باب قول الله تعالى من بعد وصية يوصى بها او دين بدظنی سب سے بڑا جھوٹ ہے اور جھوٹ تو لوگ دوسروں سے بولتے ہیں مگر یہ ایسا جھوٹ ہے جو اپنے نفس سے بولتے ہیں اور بہت کم لوگ ہیں جو اس سے بچتے ہیں ۔ پھر افسوس تو یہ ہے کہ ہماری جماعت میں بھی بہت ہیں جو اس سے نہیں بچتے ۔ کوئی سیکر ٹری پر باطنی کرتا ہے کہ مال کھا جاتا ہے۔ کوئی پریزیڈنٹ کے متعلق کہتا ہے کہ عین کرتا ہے ۔ میں کہتا ہوں اگر اس طرح بدظنی کی گئی تو کس کو کیا ضرورت ہو گی کہ کام کرے ؟ اس طرح بددل ہوکر سے سلسلہ کا ہوگا والوں کا ؟ ہو کر وہ کام کرنا چھوڑ دے گا اور اس سے سلسلہ کا کام خراب ہو گا بدظنی کرنے والوں کا کیا جائے گا بیاں بھی ایک شاعر کا مصرعہ مجھے یاد آگیا ۔ جو کہتا۔ ا کا مصر مجھے یاد آگیا جو کہتا ہے ۔ کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھری ایک شخص جو کام کرے اگر اس کے کان میں اس قسم کی آوازیں آتی رہیں کہ بہت کھاتا ہے اس نے مکان بنوا لیا ہے شادی کر لی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ تو اگلے سال وہ کیا کام کرے گا ؟ پھر جس طرح ایک کے متعلق کہا جائے گا اسی طرح دوسرے کے متعلق بھی کہا جائے گا اور وہ بھی کام