انوارالعلوم (جلد 5) — Page 426
انوار العلوم جلد ۵ ۴۲۶ اصلاح نفس وقت سے اب تک ہم نے کتنی ترقی کی ہے ۔ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ نبی صرف بیج بویا کرتا ہے اور آپ نے ایسا ہی کیا۔ اس زمانہ میں لوگ شور مچا رہے تھے کہ تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ اختیار کرو مگر نہ کوئی ا کی بات سنتا اورنہ کوئی تقوی اختیار کرتا لیکن جب حضرت مرزا صاحب نے کر کہا کہ تقوی اختیار کرو تو جو سعید لوگ تھے وہ کھڑے ہو گئے ۔ اور انہوں نے آپ کی آوازہ پر لبیک کہا۔ گو اکثر لوگوں نے توجہ نہ کی۔ پھر آپ نے پہلے سے زیادہ بلند آواز کے ساتھ بلایا اس پر کچھ اور لوگ نکل آئے۔ پھر آپ نے اس سے بلند آواز کے ساتھ پکارا اور اس پر دائیں بائیں آگے پیچھے غرض چاروں طرف سے لوگ نکل آئے اور انہوں نے آپ کی آوازہ پر لبیک کہا ۔ تب خدا تعالیٰ نے تقویٰ کا پنج لیا اور ان زمینوں میں ڈالا جو اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھیں اور پھر ان کی آبپاشی کی۔ جب وہ بیج اگ آیا تو سنت اللہ کے ما تحت مسیح موعود فوت ہو گئے ۔ اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ بیج ترقی کر کے کس حد کو پہنچ گیا ہے ؟ اگر وہ بلند نہیں ہوا اور بڑھا نہیں۔ تو کیا یہ فکر اور اندیشہ کی بات نہیں ہے؟ کیونکہ جو بیج نہیں بڑھتا وہ خشک ہو جاتا ہے پس وہ بیچ جو حضرت مسیح موعود نے تمہارے قلب میں بو یا دیکھو کہ اس نے کچھ ترقی کی یا نہیں ؟ اگر کوئی ترقی نہیں کی تو بتاؤ تم نے اس کے لئے کیا فکر کیا ہے ؟ بیشک تم لوگوں میں اخلاص اور محبت ہے اور دین کے لئے قربانی کرنے کی روح بھی ہے ۔ جیسا کہ خدا تعالٰی نے مجھے یقین دلایا ہے کہ ایک جماعت ہوگی جو حضرت مسیح موعود کے بوئے ہوئے درخت کو بڑھائے گی اور دنیا اس کے نیچے لیے گی۔ مگر ہر شخص اپنے نفس کے متعلق غور کر کے دیکھے کہ وہ بھی ان میں ہو گا یا نہیں ؟ اگر وہ نہیں ہو گا تو اسے کیا فائدہ ؟ کیا ایک بھو کا اس طرح سیر ہو سکتا ہے ؟ کہ اس کے ہمسایہ نے کھانا کھا لیا ؟ یا ایک ننگا اس طرح اپنی ستر پوشی کر سکتا ہے کہ اس کے ہمسایہ نے کپڑے پہن لیئے ؟ یا ایک پیاسا اس طرح اپنی پیاس بجھا سکتا ہے کہ اس کے ہمرا ہی نے پانی پی لیا ؟ اگر نہیں تو تم اس بات پر خوش نہ ہو کہ بعض تم میں سے نیک اور متقی ہیں اور ان کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے ۔ بلکہ اپنے متعلق دیکھو تمہارا کیا حال ہے ؟ تمہارے دل میں جو بیج ڈالا گیا ہے وہ کس حالت میں ہے ؟ ابراہیمی سنت پر چلو حضرت ابراہیم کی سنت کو یاد رکھو جب خداتعالی نے انہیں بتایا ۔ کہ میں مردوں کو زندہ کرتا ہوں ۔ ادھر بادشاہ سے اس مضمون پر مقابلہ بھی کرادیا، اور زندہ کرنے کی مثال بھی دے دی جب انہیں خدا سے مکالمہ نصیب ہوا تو چونکہ دور اندیش اور عقلمند انسان تھے سب کچھ سن کر کہا۔ یہ تو سب ٹھیک ہے لیکن مجھے کسی طرح اطمینان ہو ؟ گویا مطلب یہ کہ مجھے زندہ کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا تمہیں زندہ کریں گے اور مثال کے