انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 423

انوار العلوم جلد ۵ ۴۲۳ اصلاح نفس اور اپنے ساتھ ملائیں گے۔ آقا کی ملازمت ایک نوکر خود ہی نہیں چھوڑے گا بلکہ دوسروں کو بھی کہے گا کہ تم بھی چھوڑ دو۔ اسی طرح آقا دوسرے آقاؤں کو کہے گا کہ اگر یں کسی ملازم کو اپنے کارخانہ سے نکالوں تو تم اس کو نہ رکھنا ۔ آقا اپنی مجلسیں بنائیں گے اور نوکر اپنی الگ ۔ دوسری پیش گوئی بادشاہ کے فساد کے متعلق تھی۔ اس کے متعلق بتایا کہ ساری دنیا کی رعایا دنیا کے بادشاہوں کے مقابلہ پر مل کر کھڑی ہو جائے گی۔ اب دیکھو ہندوستان میں ہلچل ہے تو ولایت سے لیبر پارٹی کے ممبر یہاں کے لوگوں کی ہم نوائی کے لئے آرہے ہیں۔ اسی طرح بادشاہوں کو دکھیو۔ ان کی انجمن بنائی گئی ہے جس میں یہ کیا جاتا ہے کہ ایک ملک سامنے رکھ کر کہا جاتا ہے اس کو آپس میں بانٹ لیں تاکہ آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہو ۔ تو ادھر رعایا بادشاہوں کے خلاف جو سمجھوتے کر رہی ہے وہ بھی ایک انتظام کے نیچے کر رہی ہے ۔ ادھر بادشاہوں کا جتھا بن رہا ہے کہ اگر ایک کو مدد ادھر کی ضرورت ہو تو دوسرا اس کا ساتھ دے ۔ ۔ پھر اللهِ النَّاسِ کو لیتے ہیں ۔ اس سے تعلق رکھنے والے فسادی ہوں گے لیکن یہ نہیں ہو گا کہ کوئی دہر یہ ہو تو وہ اپنے آپ کو ظاہر نہ کرے ۔ بلکہ دہریوں کی بھی انجمن ہو گی اور وہ علی الاعلان کہیں گے کہ خدا کا غلط عقیدہ لوگوں کے دلوں سے مٹانا ہمارا کام ہے ۔ اب دیکھ لو اسی ہندوستان میں دیو سما جیوں کی انجمن موجود ہے۔ پہلے زمانہ میں بھی دہر لیے تھے مگر وہ اپنے خیالات کو الگ الگ ظاہر کرتے تھے کوئی ان کی انجمن نہ تھی جو اخباریں اور ٹریکٹ شائع کرتی ۔ مگر اس زمانہ میں ہندوستان میں بھی ان کی انجمن موجود ہے اور یورپ کے تمام ممالک میں بھی ان کی انہیں پائی جاتی ہیں ۔ پھر اسلام کے خلاف لڑنے والوں کی بھی انجمنیں موجود ہیں اور تو اور مولویوں کو دیکھو جو کبھی اکٹھے ہو کر نہیں بیٹھتے تھے مگر اور مولیوں کو بھی ہو اب ان کی بھی کانفرنسیں ہوتی ہیں ۔ پھر پادریوں کی بھی انجمنیں ہیں۔ ایک مقولہ تھا۔ کہ بھی ہوتی ہیں پھر باریوں کی بھی ہیں۔ پادری کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ مگر اب وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ مل کر کام کرنا چاہئے۔ یہ وہی سپنتا وہی پیشگوئی پوری ہورہی ہے ۔ جو اس طرح بیان کی گئی ہے کہ ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ) الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ هِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِه جس کے دل میں جو خیال پیدا ہوگا وہ اکیلا اس کے مطابق کام نہیں کرے گا بلکہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ ملائے گا۔ جس طرح ربّ النَّاسِ میں دو فسادوں کا ذکر تھا ایک آقا کا نوکروں کے متعلق اور دوسرا