انوارالعلوم (جلد 5) — Page 422
انوار العلوم جلد ۵ ۴۲۲ اصلاح نفس رہو۔(۳) یہ کہ رعایا بادشاہ کی مخالفت کرے گی اس وقت تم دعا کرو کہ اسے خدا ! اصل بادشاہ تو تو ہی ہے تو نہیں ان فتنوں سے بچا۔(۴) یہ کہ بادشاہ رعایا پر ظلم کریں گے اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے ہی دعا کرو کہ وہ ان کے ظلموں سے تمہیں بچائے۔(۵) یہ کہ اس وقت دین کے محافظ اور اللہ تعالیٰ کے اطلال ہونے کے مدعی دین کے علماء فتنے پھیلائیں گے اس کے لئے یہ دعا کرو کہ اسے خدا ! ان مولویوں پنڈتوں ، پادریوں کے فتنے سے نہیں بچا۔(۶) یہ کہ مولوی جو سچی بات بھی کہیں گے اسے لوگ نہیں مناتیں گے اس فتنہ سے بچنے کے لئے بھی دعا کرو۔تو یہ چھ قسم کے فساد ہوں گے۔لازم آتا کے مقابلہ پر کھڑے ہو جائیں گے۔اور آقا ملازموں پر ظلم کریں گے۔رعایا بادشاہ کا مقابلہ کرے گی بغاوت پھیلائے گی اور بادشاہ رعایا پر ظلم کریں گے مولوی جھوٹے فتوے دے کر لوگوں سے غلط باتیں منوائیں گے۔اور لوگ پیتھی باتوں کا بھی انکار کرینگے اور دہریت کی طرف چلے جائیں گے۔یہ باتیں بیان کر کے بتایا ہے کہ اس وقت سچے مسلمان فتنوں کے وقت مؤمن کا کام تھا کیا کام ہو گا ؟ یہ کہ خداتعالی سے پناہ مانگے کہ اے خدا ہیں نہ تو سٹرائیک کرنے والوں میں سے بنوں اور نہ ایسے آقاؤں میں سے جو ملازموں پر ظلم کرتے ہیں۔پھر نہ تو ہمیں اس رعایا کی طرح ہو جاؤں جو بغاوت کرتی ہے اور نہ ایسے بادشاہ کی طرح جو رعایا کے حقوق نہیں ادا کرتا ہے۔پھر نہ تو میں ان کی طرح ہو جاؤں جو تیری عبادت کی بجائے شیطان کی عبادت کراتے ہیں اور نہ ایسا کہ جو سچا واعظ طے اس کی بھی بات نہ مانوں اور انکار کردوں۔اب دیکھ لو کہ ان فسادوں کے سوا کوئی اور فساد ہے جو اس زمانہ میں ہو رہا ہے ؟ ہرگز نہیں۔اور پھر ان باتوں کے بیان کرنے میں ترتیب کیسی اعلیٰ درجہ کی رکھی گئی ہے۔ادنی فسادوں کے بعد بڑے فسادوں کا ذکر کیا گیا ہے۔پہلے آقا اور نوکر کے تعلق کے متعلق بتایا ہے۔پھر رعایا اور بادشاہ کے ذکر تعلق کے متعلق جو اس سے اعلیٰ ہے پھر عبد اور معبود کے تعلق کا ذکر کیا ہے جو سب سے اعلیٰ ہے۔ان باتوں کے متعلق موجودہ زمانہ کے فسادوں کی نوعیت کا ذکر قرآن میں ہے نماز ایسی فرض ہے ہمارا کہ ہم ان میں کوئی حصہ نہ لیں اور ان سے پناہ مانگیں مگر پیشگوئی یہاں تک ہی نہیں بلکہ آگے بھی بڑھتی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ وہ زمانہ ہو گا کہ ہر بات کے لئے آرگنائزیشن ہوگی۔ایک انتظام کے ما نتجت یہ فساد ہوں گے۔لوگ فرداً فرداً ان میں حصہ نہیں ملیں گے بلکہ دوسروں کو بھی اکسائیں گے