انوارالعلوم (جلد 5) — Page 414
انوار العلوم جلد ۵ ۴۱۴ اصلاح نفس میں تھا۔ سوالحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے دشمن سے ھی اقرار کرا دیا ہے کہ تم لوں کا رول کریم صلی الہ علیہ سلم ن سے ہی تعلق ہے اور تمہاری نظیر مخالفوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں ہی ملتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ تم سے ایک کو تاہی بھی ہوئی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس کی وجوہ ہیں۔ اور چونکہ مسجد کی تحریک کوتاہی کی گئی تھی جو بہت بڑا کام تھا ۔ علماء اس کے لئے چندہ جمع کرتے رہے ہیں اور آپ لوگ بھی اس کام میں مشغول رہے ہیں ۔ مگر جو شخص سر کو ڈھانکنے کے لئے ستر کی جگہ کو ننگا کر دیتا ہے۔ کون ہے جو اسے کے کہ غلطی نہیں کر رہا ؟ روپیہ دین کی خدمت کے لئے دینا بے شک اچھی بات ہے ۔ مگر میں افسوس سے کہوں گا کہ اس کی وجہ سے اس سال تبلیغ میں بہت کمی آگئی ہے اور پہلے کی نسبت نمایاں فرق پڑ گیا ہے ۔ ہر سال پہلے سالوں کی نسبت زیادہ آدمی سلسلہ میں داخل ہوتے رہے ہیں مگر اس سال صرف بارہ سو عورتیں اور بچے علیحدہ کر کے داخل ہوئے ہیں ۔ اگر عورتوں اور بچوں کو بھی ملا لیا جائے تو چار ہزار کے قریب بن جاتے ہیں۔ لیکن اس طرح پہلے سالوں میں دس ہزار کے قریب تعداد بنتی ہے۔ یہ تم پر قرض ہو گیا ہے اور میں اس کے متعلق تحریک کروں گا کہ مقروض کی طرح تم اس قرض کی ادائیگی کی فکر کرو اور اس وقت تک چین نہ لو جب تک اسے ادا نہ کر لوں جماعتوں کے امیر اس کے بعد میں نظم سلسل کے متعلق ایک تحریک کرنی چاہتا ہوں انتظام جب میں نے نظارتوں کے قیام کے متعلقی رسالہ لکھا تھا۔ تو اس میں بیان کیا تھا کہ ہرجگہ کی جماعتوں کے انتظام کے لئے امیر مقرر ہونے چاہئیں (جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ یا خلفاء کے زمانہ میں ہر ضلع اور ہر شہر میں امیر ہوتے تھے ، اور احمدی ان سے اپنے معاملات میں مشورہ میں تاکہ انتظام پراگندہ نہ ہو۔ اس وقت میں نے یہ حکم نہیں دیا تھا مشورہ دیا تھا ۔ اس سال اس کا دو جگہ تجربہ کیا گیا ہے ایک لاہور میں اور دوسرے فیروز پور میں۔ لاہور کی جماعت اخلاص میں بہت اعلیٰ درجہ کی ہے اور تھی مگر انفرادی طور پر وہاں کے لوگوں میں بہت اختلاف تھا ۔ اس انتظام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوش ہیں اور ان کے معاملات آسانی اور سہولت سے طے ہوتے ہیں۔ فیروز پور کی جماعت کا انتظام بہت اعلیٰ ہو گیا ہے۔ غرض تجربہ سے یہ طریق بہت اعلیٰ ثابت ہوا ہے اور گو میں اب بھی اس کے متعلق حکم نہیں دیتا ۔ مگر یہ بتاتا ہوں کہ شریعت نے اس بات کو پسند کیا ہے اور اس کے ذریعہ انتظام بہت اعلیٰ درجہ کا چلتا ہے ۔ پس جو جماعتیں چاہتی ہیں کہ ان کے امیر مقرر کر دئے جائیں وہ یہاں لکھیں کہ وہ اپنے میں سے کس کو اپنا امیر بنانا پسند کرتی ہیں تا کہ ہم انہی میں سے ان کے امیر مقرر کر دیں۔