انوارالعلوم (جلد 5) — Page 23
انوار العلوم جلد ۵ ۴۳ قیام توحید کیلئے غیرت جمع شدہ روپیہ سے صرف بنیادوں سے او پر تک شاید عمارت بلند ہو سکے۔اب خیال ہوا کہ کیا گیا جائیے۔حضرت صاحب فرماتے تھے اسی روپیہ میں کام کرو۔میر صاحب بلند آواز کے آدمی تھے اور حضرت صاحب کے بچپن کے دوست تھے۔بعض اوقات حضرت صاحب سے لڑ بھی پڑتے تھے انہوں نے کہا کہ حضرت ! آپ مجھ سے وہ کام کرانا چاہتے ہیں جو مکن نہیں ، اس روپیہ میں کچھ نہں ہوتا حضرت صاحب نے فرمایا اچھا میر صاحب آپ بتلائیں کہ آپ کے اندازہ میں کتنا روپیہ درکار ہوگا انہوں نے کہا کہ پچیس ہزار۔اس پر حضرت صاحب نے فرمایا میر صاحب آپ کے اتنے بڑے اندازہ کے تو یہ معنے ہوئے کہ کام کو روک دیا جائے۔اس وقت بہت سے لوگ ہو نگے جو خیال کرتے ہونگے کہ اگر ہم ہوتے تو پیچیں ہزار کیا بات تھی، فورا مہیا کردیا جاتا مگر جب تو یہ حالت تھی کہ پچیس ہزار کا نام سن کر کہ دیا جاتا تھا کہ کام کو روک دینا چاہئے۔یا اب تمہیں ہزار کہا جاتا ہے اور ایک مہینہ کے اندر جمع کرانے کا خیال ہے اور جس طرح قادیان میں چندہ ہوا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مہینہ کے اندر اندر یہ روپیہ جمع ہو جائیگا اور امید ہے کہ اس رقم کو گورداسپور، امرتسر، لاہور کے تینوں اضلاع ہی پورا کر دینگے اور باقی اضلاع کے لوگ یہی کہیں گے کہ ایک تحریک ہوئی تھی جو لاہور میں پہنچ گرختم ہوگئی۔ہوگئی حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا نشان یہ اصل میں لوگوں کے لئے ایک نشان ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے کیا نشان دکھایا۔کیا یہ نشان نہیں کہ ایک غرباء کی جماعت دین کے لئے اس طرح قربانیاں کرتی ہے۔عیسائی مؤرخ کہتے ہیں کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے وقت میں سامان فتح کیا تھے۔روم کی سلطنت مٹ رہی تھی۔ایران کمزور تھا مسلمان جوش سے اُٹھے انہیں فتح حاصل ہوگئی۔اسی طرح لوگ اب تو ہم پر بنتے ہیں ، مگر جب دو تین سو سال کے بعد احمدیت پھیل جائیگی تو لو کہ دینگے کہ پہلے مذاہب بے جان ہو گئے تھے۔احمدیت میں جان تھی۔احمدی جوش سے اُٹھے اور انہوں نے غلبہ پا لیا۔آج مہنسی کے طور پر پوچھا جاتا ہے کیوں جی اکتنی حکومتیں احمدی مسلمان ہوگئیں، لیکن جب حکومتوں کو خدا تعالیٰ مسلمان کر دیگا تو کہیں گے کہ تم لوگ جوش سے اُٹھے اور دنیا کو شکار کر لیا۔جیسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ابتدائی حالت تھی ویسی ہی بعینہ ہماری آج سے ہیں سال قبل تھی اور آپ بھی قریباً ویسی ہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس زمانہ کی نسبت فرانس کا ایک مورخ لکھتا ہے کہ محمد (صلی الہ علیہ والہ وسلم) کی ایک بات عجیب تھی۔لوگ کہتے ہیں وہ جھوٹا تھا مگر