انوارالعلوم (جلد 5) — Page 399
انوار العلوم جلد ۵ ۳۹۹ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب دیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انکو دو موقعے ملیں گے اور مجھے ایک کیونکہ سب سے پہلی دفعہ بوجہ سائل یا معترض ہونے کے انہیں موقع ہوگا ۔ اس کے بعد مجھے پھر ان کو ۔ پس ان کو دو موقع ملیں گئے اور مجھے ایک ۔ اور یہ بات انصاف کے خلاف ہے کہ ایک امر کا ثابت کرنا بھی میرے ذمہ نہ ہو جو خود آپ کی تحریر کے مطابق اعتراض کی نسبت شکل ہوتا ہے اور موقع بھی مجھ کو ایک ہی دیا جائے ۔ پروفیسر صاحب نے اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ معترض تینوں اعتراضات اکٹھے شائع کر دے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ مجیب جس سوال کا چاہے پہلے جواب دے اور جس کا چاہے پیچھے جواب دے میں اس کے متعلق اس قدر لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ پروفیسر صاحب نے یہ جو سہولت رکھی ہے کہ مجیب جس سوال کا چاہے جواب پہلے دے اور جس کا چاہے پیچھے اسی سہولت پر ان کا ممنون ہوں لیکن اس کی مجھے ضرورت نہیں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس امر کے لئے تیارہ ہوں کہ جس سوال کو وہ پہلے لیں میں اس کا جواب پہلے لکھوں ۔ صرف میری اس قدر خواہش تھی کہ تینوں سوالات ایک ساتھ بیان ہو جائیں تا اعتراضات کا حلقہ جواب دیتے وقت مد نظر رہے اور مجیب اپنے وقت اور فرصت کا خیال رکھ سکے ۔ یہ بات بھی ضروری نہیں کہ تینوں سوالات کو پہلی ہی دفعہ مشترح اور واضح کر کے با دلائل بیان کیا جائے ۔ بلکہ یہ بھی اجازت ہوگی کہ جس سوال کا جواب پروفیسر صاحب پہلے لینا چاہیں اس کے متعلق پوری تشریح سے اپنے سوال کو مع ان دلائل کے جن کی بناء پر ان کو وہ اعتراض پیدا ہوتے ہیں شائع کرا دیں اور دوسرے سوالات کو مجملاً بیان کر دیں اور پھر ان کی باری پر ان کی تشریح کر دیں ۔ اس جگہ میں یہ بھی لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ سوال کرنے سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ پروفیسر صاحب صرف سوال ہی لکھ دیں۔ بلکہ ان کو اجازت ہوگی کہ وہ اپنے اعتراض کو زوردار بنانے کے لئے جس قدر چاہیں وضاحت کو کام میں لائیں اور وہ وجوہات بہ تفصیل بیان کریں جن کی بناء پر ان کو وہ اعتراض پیش کرنے کا خیال پیدا ہوا ہے اور جس کی بناء پر اس مسلہ کو اور جس پر وہ اعتراض کریں گے وہ قرآن کریم کے الہامی ہونے کے خلاف سمجھتے ہیں۔ گویا سوال نام وہ سمجھتےہیں اس اعتراضی پرچہ کا ہو گا جس میں ایک خاص مسئلہ کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ قرآن کریم کے غیر الہامی یہ کا ہو خاص مسلہ مد قرآن کے ہونے کے خلاف بحث کرینگے ۔ یہ تو ان کے حقوق کی حد ہے آگے ان کا یہ اختیار ہے کہ صرف