انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 21

۲۱ قیام تو حید کیلئے پھر میں دیکھتا ہوں کہ بظاہر اپنی بہت سے بڑھ کر لوگ حصہ لے رہے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں کام کرنے والی روح موجود ہے۔ان کے لئے دوہرا ثواب ہو گا۔ایک تو یہ جتنا زیادہ دینگے اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ ثواب دیگا ، دوسرے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اَلدَّالُ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِل کہ لوگوں کو نیکی کی طرف دلالت کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا نیکی کرنے والے کو جو لوگ اس جماعت کے چندہ کی مقدار کوسن کر زیادہ چندہ دینگے اس کے زیادہ چندہ دینے کے عوض میں اللہ تعالیٰ قادیان والوں کو بھی ثواب دیگا کیونکہ انہوں نے اس کام میں ابتداء بھی کی ہے اور جو دے رہے ہیں میں جانتا ہوں کہ بہت حد تک اپنے نفسوں کو قربان کر کے دے رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کے اخلاص کا خدا کے فضل سے مقام بہت بلند ہے۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اس کے اخلاص اور حوصلہ میں وسعت دی اگر اس جماعت کے سوا دوسرے لوگوں کے امراء کا بھی مجمع ہوتا تو مشکل سے ایسے کام کے لئے اسقدر چندہ جمع ہوتا۔مگر یہاں تو نہ صرف مردوں نے بہت دکھلائی بلکہ عورتوں نے بھی ہمت دکھلائی۔آج صبح وہ جمع ہوئیں۔ان کا چندہ بھی دو ہزار سے اوپر جمع ہوگیا ہے۔بہت نے اپنے زیور اتار اتار کر دیدیئے۔جب میں مضمون لکھنے لگا اور اس میں تیس ہزار چندہ لکھا گیا تو میں نے چاہا کہ اپنی جماعت کے امراء کو توجہ دلاؤں۔چنانچہ میں نے اس میں لکھا کہ غیر احمدی امراء مساجد کی تعمیر پر بڑی بڑی رقوم خرچ کر دیتے ہیں۔کیا آپ اتنا چندہ نہ کرینگے ، بلکہ آپ ان سے بڑھ کر چندہ دینگے۔گھر ایک خدائی تصرف نے مجھ سے یہ فقرہ بھی لکھوا دیا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کے غرباء احمدی بھائی۔آپ کو اس امر میں بھی شکست دینے کی کوشش کرینگے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا ہی کو یہ وہ منظور ہے کہ اس تحریک میں زیادہ غرباء حصہ لیں اور قادیان کے غرباء نے جو نمونہ دکھلایا بہت اعلیٰ ہے۔کیونکہ یہاں غرباء نسبتاً زیادہ ہیں ان کی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔پھر بھی با وجود اس کے انہوں نے چند سے زیادہ دیتے ہیں۔ان کی عورتوں اور ان کے بچوں نے زور سے چندہ دیا ہے۔میں نے جب یہ نظارہ دیکھا کہ عورت میں اپنے زیور اتار آثار کر دے رہی ہیں اور بچے پیسہ دو پیسہ یا اس سے بڑی رقم لے لے کر دوڑے چلے آرہے ہیں اور اسی طرح مردوں کا حال ہے۔عه ترمذی ابواب العلم باب ما جاء ان الدال على الخير كفاعله