انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 388

انوار العلوم جلد ۵ ۳۸۸ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب میں بہت سی وہی باتیں بیان ہوگئی ہیں تو اہل ہنود اس کی عقل پر نہیں گے یا نہیں ۔ اسی طرح اہل دانش پروفیسر صاحب کے اس بیان پر کہ مسٹر امیر علی صاحب کے نزدیک قرآن کریم میں جو فرشتوں کا ذکر آیا ہے وہ محمد صاحب کا وہم ہے زیر لب متبسم ہیں اور پروفیسر صاحب کی اس جلد بازی پر حیران ہیں جس سے انہوں نے اس حوالہ کے درج کرنے میں کام لیا ہے۔ اگر پروفیسر صاحب اس فقرہ کے ساتھ کے اگلے فقرات پڑھتے تو ان کومعلوم ہو جاتا کہ مسٹرامی علی صاحب نہ صرف یہ کہ فرشتوں کے ذکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہم اور خیال نہیں بتاتے بلکہ ان کو اس امر میں بھی شک ہے کہ فرشتوں کا ذکر مجازہ ہی ہے یا واقع میں بھی کوئی ایسا وجود ہے غرض وہ فرشتوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہم نہیں بتاتے بلکہ ان کے متعلق جو اس زمانہ کے خیالات ہیں ان کے غیر یقینی ہونے کا خیال ظاہر کرتے ہیں ۔ وہ اس فقرہ کے معا بعد جس سے پروفیسر صاحب نے غلط نتیجہ اخذ کیا ہے تحریر کرتے ہیں ۔ غالباً محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسیح اور دوسرے انبیاء علیہم السلام ) کی طرح ایسی درمیانی اراج کے جو خدا اور بندہ کے درمیان پیغام رساں ہوں قائل تھے ۔ اس زمانہ میں فرشتوں کا جو انکار کیا جاتا ہے وہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارے آباء کے جو خیالات فرشتوں کے متعلق تھے ان کی ہنسی اڑائی جائے ۔ ہمارا انکار اسی طرح وہم کہلا سکتا ہے جس طرح ان کا یقین ، فرق صرف یہ ہے ایک میں نفی کا پہلو ہے تو دوسرے میں اثبات کا جس چیز کو ہم اس زمانہ میں اصول طبیعی خیال کرتے ہیں وہ ان کو فرشتہ اور آسمانی کار پردازان خیال کرتے تھے ۔ یا جس طرح ناک کا خیال ہے خدا اور بندے کے درمیان کوئی اور وجود بھی ہیں جس طرح انسان اور ادنی حیوانات کے درمیان اور وجود ہیں ؟ یہ ایک ایسا باریک سوال ہے کہ انسانی عقل اس کی تہ تک نہیں پہنچ سکتی ان فقرات سے صاف ثابت ہے کہ مسٹر امیر علی صاحب فرشتوں کے وجود کو محض استعارہ قرار دینے کو بھی جائز نہیں سمجھتے اور ان کا خیال ہے کہ فرشتوں کا انکار کرنے والے اگر فرشتوں کے وجود کو ماننے کا نام و ہم رکھتے ہیں تو ان کے فرشتوں کو نہ ماننے کا نام بھی وہم رکھا جا سکتا ہے اور یہ کہ فرشتوں کے وجود کا مسئلہ ایسا باریک مسئلہ ہے کہ انسانی عقل اس کی تہ تک نہیں پہنچ سکتی جس کے معنے دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ ان کے متعلق ہم بحث نہیں کر سکتے ان کے متعلق بحث کرنا آسمانی کتب کا کام ہے۔ پس باوجود مسٹر امیر علی صاحب کے ایسے صریح بیان کے پروفیسر رام دیو صاحب کا یہ بیان فرمانا کہ مسٹر امیر علی صاحب قرآن ہیں جو فرشتوں کا ذکر ہے اسے محمد صاحب کا وہ ، اسے محمد صاحب کا وہم قرار دیتے