انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 377

انوار العلوم جلد ۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب کارد واقف کاران اسلام کی طرف سے پچھلے میں سال کے عرصہ میں ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔پس جب ان مضامین کو رد کیا جاتا رہا ہے تو سیسی سید صاحب کے مذہبی نمائندہ ہونے کا رد ہے ان مضامین سے ایک بھی مضمون نہیں جس کا رد نہ کیا گیا ہو۔مگر میں پروفیسر صاحب کے اس مطالبہ کو بھی کہ خاص اس کتاب کو مد نظر رکھ کر سید صاحب کی منفت کی گئی ہو پورا کئے بغیر آگے نہیں جانا چاہتا اور سید صاحب کی اپنی شہادت اس بارہ میں پیش کرتا ہوں اور بیان کا وہ فقرہ ہے جو ان کی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کے دیباچہ میں انھوں نے لکھا ہے وہ لکھتے ہیں :۔" وہ مخالفت جو اس کتاب کی ہوئی ہے اس نے یہ فائدہ ہی دیا ہے کہ وہ خیالات جو اس کے ذریعہ سے انگلی نسلوں میں پیدا کرنے مد نظر تھے ان کا اثر اور بھی بڑھ گیا ہے ! اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب کی اس کتاب پر مخالفت کی گئی تھی کا یہ خیال بھی غلط ہو گیا کہ سید صاحب کی نمائندگی کا انکار کیوں نہیں کیا گیا۔جیسا کہ سید صاحب تحریر فرماتے ہیں انھی کتاب کے شائع ہوتے ہی اسکے غلط خیالات کو رد کر دیا گیا تھا۔ہیں ان کی نمائندگی کا انکار ہو چکا ہے۔سید صاحب کے اس فقرہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ کتاب بحیثیت نمائندہ اہل اسلام نہیں لکھی تھی بلکہ اپنے چند خیالات کو پھیلانے کے لئے یہ کتاب لکھی تھی۔اگر پروفیسر صاحب کہیں کہ تمام اہل اسلام نے بالاتفاق اسکے نمائندہ ہونے سے انکار نہیں کیا تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا لالہ مولراج صاحب کے اقوال کا رد دیدگ دھرم کے ہر ایک ماننے والے نے استثناء کیا ہے۔انکار کے لئے اسی قدر کافی ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنے اصل عقائد کا اظہار کردیں اور نئے خیالات سے اپنی براءت کر دیں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر فرد ان کا انکار کرے اور یہ بات سیدامیر علی صاحب کی کتاب سپرٹ آف اسلام کے متعلق خود ان کے اپنے بیان کے مطابق ہو چکی ہے۔پروفیسر صاحب ایک اور دھوکے میں پروفیسر صاحب ایک اور بہت بڑے دھو کے ہیں پڑے ہوئے ہیں اور وہ یہ کہ وہ ایک شخص کی غلطی سے " تمام لوگوں پر حجت قائم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ خواہ کوئی شخص کسی قوم کا نمائندہ بھی ہو اس کی بات کا اثر اس کے مخالف خیال کے لوگوں پر نہیں ہو سکتا۔اگر فرض کر لیا جائے کہ جو شرائط پروفیسر صاحب نے بتائی ہیں وہ جس میں پائی جائیں اس کی بات اس کے ہم مذہبوں پر محبت ہوتی ہے تو بھی پروفیسر صاحب کی دلیل بالکل بے وزن ہے کیونکہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والے اسوقت بیسیوں