انوارالعلوم (جلد 5) — Page 357
انوار العلوم جلد ۵ ۳۵۷ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب آریہ مت کی صداقت پر کوئی شبہ وارد نہ ہو تو کیا وجہ ہے کہ کوئی مسلمان اگر کثرت ازدواج کو زنا قرار دیدے تو اس سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ اسلام اس وقت دنیا کو تسلی نہیں دے سکتا حالانکہ یہ دونوں باتیں ایک ہی قسم کی ہیں بلکہ ان میں ایک ایسا فرق ہے جو اسلام کے حق میں مفید ہے اور وہ یہ کہ نیوگ کی تعلیم واقع میں بڑی ہے اور کثرت ازدواج کی تعلیم حکمت سے پُر ہے۔چنانچہ لالہ لاجپت رائے صاحب نے ہر دسمبر نشاء کے بندے ماترم میں پروفیسر رام دیو صاحب کے مضمون کے متعلق معذرت کرتے ہوئے کثرت ازدواج کی نسبت لکھا ہے کہ :۔" میری ذاتی رائے میں اسلام کا قانون شادی نہ صرف زنا کاری نہیں ہے بلکہ بہت حد تک زنا کاری کو روکتا ہے " پھر خود ہندؤوں کے بڑے بڑے لوگ ایک سے زیادہ شادیاں کرتے رہے ہیں اور اب بھی کرتے ہیں لیکن ان کی اولاد کو کوئی ولد الزنا نہیں کہتا۔گوئیں یقین رکھتا ہوں کہ نیوگ سے پیدا ہونے والے لڑکے کو کوئی اور یہ صاحب بھی اسی نظر سے نہ رکھیں گے جس نظر سے بیا تا بیوی کے بچوں کو دیکھا جاتا ہے۔پس اگر کسی مذہب کی ایک بڑی بات کو برا کہنے سے اس مذہب کی صداقت پر پروفسیر صاحب کے نزدیک کوئی حرف نہیں آتا تو کسی مذہب کی اچھی بات کو بُرا کہنے سے اس مذہب پر کیا اعتراض آئے گا۔اگر بعض مسلمانوں نے کثرت ازدواج کو برا قرار دیا ہے تو آج یورپ کے سینکڑوں نہیں ہزاروں آدمی اسی مسئلہ کو دنیا کی مشکلات کا حل سمجھنے لگ گئے ہیں اور خود آریہ صاحبان کے بعض موجودہ اور پرانے مبر بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔چنانچہ وکیل اخبار نے ایک آریہ پنڈت صاحب کی نسبت لکھا ہے کہ انھوں نے بیان کیا کہ مادی زندگی میں سخت پرہیز گاری کی اُمید کرنا عبث ہے۔پھر اس کا حل سوائے کثرت ازدواج کے اور کیا ہو سکتا ہے۔لالہ لاجپت رائے صاحب نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ دھرم شاستر بعض حالتوں میں خاوند کو اجازت دیتا ہے کہ ایک یا زیادہ ہیولوں کی زندگی میں بھی اور شادی کرے۔چوتھی مثال چوتھی مثل آرمی گزٹ کے ایڈیٹر صاحب کی ہے جس نے بیوہ کے نکاح کے متعلق جسے پنڈت دیانند صاحب نے ناجائز قرار دیا ہے لکھا ہے کہ ایسے حالات و واقعات کی موجودگی میں بھی اگر و دعوا دواہ نکاح بیوگان کی مخالفت کرتے ہیں تو نہ معلوم اور کتنی تباری کے نظارے وہ چاہتے ہیں جو ان کی آنکھیں کھول سکیں۔